خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 88

$1950 88 خطبات محمود کے ساتھ بھیج دیتا اور خود بعد میں آتا۔خلیفہ صاحب کہنے لگے میں نے اسے کہا جی ہاں مرزا صاحب ایسا ہم کرتے ہیں۔وہ کہنے لگا پھر ؟ میں نے کہا مرزا صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لے کر پھرتے ہیں تو لوگ کہتے ہم ہیں یہ مرزا صاحب کی بیوی ہے لیکن جب آپ اپنی بیوی کو ٹہلیے کے ساتھ بھیج دیتے ہیں اور خود بعد میں جاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں یہ ٹھلیے کی بیوی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہی ہیں۔اگر واقع میں کوئی بات معیوب ہے تو ہمیں اعتراض کرنے والوں کی خاطر اسے ترک نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس عیب کی خاطر اسے ترک کرنا چاہیے ورنہ مذہب بالکل ختم ہو جاتا ہے۔پھر ایک اچھا کام ہم کرتے ہیں اگر وہ کام ہم اس لئے کی کرتے ہیں کہ دوسرے آدمی بھی وہی کام کرتے ہیں تو پھر خدا باقی نہ رہا۔ہمیں وہ کام محض اچھا ہونے کی کی وجہ سے کرنا چاہیے اور ثواب کی خاطر کرنا چاہیے۔اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو کام کا کام ہو جائے گا اور ثواب بھی مل جائے گا۔غرض ہم اکثریت کو دیکھتے ہیں کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کرتی ہے۔تو اکثریت نیک نہیں ہوا کرتی۔یہ تو ایک آئیڈیل ہے جو انبیاء کی جماعتوں کے سامنے رکھا گیا ہے ورنہ وہ اس کو نیک بنا نہیں سکتے۔حضرت نوح علیہ السلام دنیا میں آئے لیکن اکثریت خراب رہی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے م لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی، حضرت عیسی علیہ السلام آئے لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی۔ادھر حضرت کرشن اور حضرت رام چندر علیہما السلام آئے لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی۔پھر تمام انبیاء کے سرتاج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی۔اکثریت کبھی نیک نہیں ہوتی۔صرف اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعتوں کے سامنے یہ مقصد رکھا ہے کہ تم کوشش کرو کہ اکثریت نیک بنالو۔اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ جانتا ہے کہ اکثریت نے یہ کام کرنا ہے یا نہیں۔لیکن اگر کوئی جماعت کوشش کر کے اکثریت کو نیک بنا لے گی تو وہ بے مثال ہوگی اور کوئی دوسری قوم اُس کے سامنے کھڑی نہیں ہوگی ممکن ہے وہ نمازوں میں اس سے زیادہ ہو، ممکن ہے وہ روزوں میں اس سے زیادہ ہو اور وہ کہہ دیں کہ ہم نے تم سے زیادہ روزے رکھے ہیں یا تم سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔لیکن یہ مقام کہ کسی قوم نے اکثریت کو نیک بنالیا ہو کسی قوم کو حاصل نہیں ہوا۔لیکن یہ مقام ہر نبی کی جماعت کے سامنے رکھا گیا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام