خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 87

$1950 87 خطبات محمود کے ایک سرے پر چلے جاتے اور پھر دوسرے سرے پر تشریف لے جاتے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی طبیعت بڑی جو شیلی تھی اور آپ پرانے رسم و رواج کے مطابق اسے بڑا عیب خیال کرتے تھے کہ کوئی مرد اپنی بیوی کو لے کر اس طرح شہلے۔آپ بڑے حساس تھے۔آپ کے ذہن میں فورا یہ خیال آیا کہ اگر لوگ اعتراض کریں گے تو ہم کیا جواب دیں گے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاول فرماتے تھے مولوی صاحب گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور کہا آپ دیکھتے نہیں کیا ہو رہا ہے؟ لوگ اعتراض کریں گے تو ہم کیا جواب دیں گے؟ میں نے کہا مجھے تو کہنے کی جرات نہیں۔آپ اگر بُرا سمجھتے ہیں تو آپ خود جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کہہ دیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کو غصہ چڑھا ہوا تھا، فورا چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ بات کہہ دی کہ لوگ اگر اعتراض کریں گے تو ہم کیا جواب دیں گے؟ واپس آئے تو سر نیچے ڈالا ہوا تھا جیسے کوئی آدمی سخت شرمندہ ہوتا ہے اور ایک طرف کھڑے ہو گئے۔میرے دل میں بھی گرید تھی۔میں نے کہا مولوی صاحب ! کیا آپ نے حضرت مسیح موعود سے کہا نہیں؟ مولوی صاحب نے جواب دیا: ہاں کہا تو ہے۔میں نے کہا تو پھر حضرت مسیح موعود نے کیا فرمایا ہے؟ کہنے لگے میں نے جب یہ بات کہی تو آپ نے فرمایا مولوی صاحب ! آخر لوگ کیا کہیں گے؟ یہی کہیں گے کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کو لے کر پھرتے ہم تھے اس میں اعتراض کی کونسی بات ہے۔خلیفہ رجب دین صاحب جو خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر تھے اور پرانے احمدی تھے اُن کی طبیعت میں بڑی تیزی تھی۔وہ جب معترضین کو اُن کے اعتراضات کا جواب دیتے تو ایسے کاٹنے والے جواب دیتے کہ ان سے برداشت نہیں ہو سکتی تھی۔ایک دفعہ آپ ایک مقدمہ میں پیش ہوئے چونکہ آپ کے بعض رشتہ دار بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے اس لئے لوگ آپ کا لحاظ کرتے تھے۔کسی نے مجسٹریٹ سے کہہ دیا کہ یہ فلاں کے رشتہ دار ہیں۔مجسٹریٹ کہنے لگا میں نے آپ سے ایک بات ہے پوچھنی ہے بشرطیکہ آپ بُرا نہ منائیں۔انہوں نے کہا میں پاگل تو نہیں کہ تم اچھی بات کہو گے تو میں بُرا مناؤں گا۔اور میں بے غیرت بھی نہیں کہ تم بُری بات کہو اور میں بُرا نہ مناؤں۔آخر تھوڑی سی رڈ و کد 3 کے بعد اُس نے کہا میں نے سنا ہے کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لے کر سیر کو چلے جاتے ہیں۔اُس زمانہ میں ہندوؤں میں یہ قاعدہ تھا کہ اگر میاں بیوی نے کہیں باہر جانا ہوتا تو خاوند بیوی کو پہلے کسی نوکر