خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 255

$1950 255 خطبات محمود بیداری چھوٹی عمر میں بھی پیدا ہو جاتی ہے اور بڑی عمر میں بھی۔بعض لوگوں کے اندر چھوٹی عمر میں بیداری پیدا ہو جاتی ہے اور بعض میں بڑی عمر میں جا کر بیداری پیدا ہوتی ہے۔لیکن اس کا ایک عمر تک پیدا نہ ہونا انسان کی غفلت اور سستی پر دلالت کرتا ہے اور اس کا ایک دوسری عمر تک پیدا نہ ہونا اس کے بچپن پر دلالت کرتا ہے۔بعض لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے دس دس گیارہ گیارہ سال کی عمر میں بیداری کا اظہار کیا۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوئی فرمایا اور قریش کو بلا کر کہا کہ میں خدا کی طرف سے کھڑا کیا گیا ہوں اور میں اس کی باتیں تمہیں سناتا ہوں تم میں سے کون ہے جو میری مدد کرے؟ تو حضرت علیؓ کی عمر اس وقت گیارہ سال کی تھی آپ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔2 اُس وقت آپ کے علاوہ اور کوئی شخص کھڑا نہ ہوا۔پس اللہ تعالیٰ جس کو سمجھ دے دیتا ہے اُس کے اندر گیارہ بارہ سال کی عمر میں بھی بیداری پیدا ہو جاتی ہے اور جس کو سمجھ نہیں دیتا ہے وہ بیس بائیس سال کی عمر میں بھی جا کر بیدار نہیں ہوتے۔اس عمر کے بعد بھی جو بیدار نہیں ہوتے وہ دراصل غافل ہوتے ہیں ورنہ اگر وہ چاہیں تو اپنی ضروریات کو سمجھ سکتے ہیں۔پس تمام نو جوان مردوں اور عورتوں کو یا وہ لوگ جو نئے آنے والے ہیں اور ہماری جماعت کے لحاظ سے بچے ہیں یاوہ لوگ جو پہلے سورہے تھے اور پہلا دور گزر گیا اور انہوں نے اس میں حصہ نہ لیا میں ان سب کو کہتا ہوں کہ موقع زیادہ سے زیادہ نازک ہوتا جاتا ہے، ہمارا دشمن زیادہ سے زیادہ بیدار ہورہا ہے، ہماری عداوتیں زیادہ سے زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہیں، اسلام زیادہ سے زیادہ خطرہ میں سے گزر رہا ہے اب بھی اگر تم بیدار نہ ہوئے تو کب بیدار ہو گے۔میں ہر نوجوان کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ قلیل ترین رقم ادا کر کے تحریک جدید میں حصہ لے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے جب وہ قلیل ترین رقم ادا کر کے اس میں حصہ لے گا تو خدا تعالیٰ اُس کے ایمان کو زیادہ مضبوط کرے گا اور اگلے سالوں میں اسے زیادہ چندہ دینے کی توفیق عطا فرمادے گا۔اسی طرح اُس کی روحانیت زیادہ ترقی کرے گی۔لیکن جن لوگوں میں پھر بھی تحریک جدید میں حصہ لینے کی استطاعت نہیں اور وہ بالکل معذور ہیں انہیں جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہوں گا کہ سب سے بڑی طاقت دعا میں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے سال میں نے دعا کی تحریک نہیں کی تھی اس لئے چندوں کی ادائیگی میں سستی ہوئی ہے۔معذور لوگ اپنے دلوں سے یہ وسوسہ نکال دیں کہ وہ مالی طور پر سلسلہ کی مدد نہیں کر سکتے۔وہ دعا کر کے سلسلہ کی مدد کر سکتے ہیں۔