خطبات محمود (جلد 31) — Page 213
$1950 213 خطبات محمود گا۔اس بزرگ نے پھر کہا ہاں وہ بھاگ جائے گا لیکن اس نے کام شروع کرتے ہی پھر تمہاری ایڑی پکڑ لی تو کیا کرو گے؟ وہ شاگر د حیران ہوا اور دریافت کیا پھر آپ ہی بتائیں میں کیا کروں؟ اس بزرگ نے کہا کہ اگر تم کسی دوست کو اُس کے گھر پر ملنے جاؤ اور اُس نے گتا رکھا ہو۔وہ گتا تمہاری ٹانگ پکڑ کم لے تو تم کیا کرو گے؟ اس نے جواب دیا میں اسے سوئی ماروں گا اور وہ بھاگ جائے گا۔اس بزرگ نے کہا اچھا تم نے سوٹی ماری اور وہ گتا بھاگ گیا لیکن جونہی تم گھر کی طرف جانے لگے اور اس کتے نے پھر تمہاری ٹانگ پکڑ لی تو تم کیا کرو گے؟ اس شخص نے جواب دیا میں پھر اُسے سوئی ماروں گا۔اس کی بزرگ نے پھر تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو شاگرد نے کہا میں سمجھ گیا ہوں۔اگر پھر بھی گتا نہ ہے تو میں مالک مکان کو آواز دوں گا اور وہ اس گتے کو پرے ہٹائے گا۔اس بزرگ نے کہا شیطان بھی اللہ تعالیٰ کا کتا ہے جو تمہیں ہر نیک کام سے روکتا ہے، جو نہی تم اللہ تعالیٰ کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہو وہ تمہارا دل خراب کرتا ہے، تمہارے اندر وساوس پیدا کرتا ہے، تمہارے اندر بے ایمانی کے خیالات پیدا کرتا ہے اور قربانی نہ کرنے کے جذبات کو ابھارتا ہے۔اگر تم اسے پرے نہیں ہٹا سکتے تو تم خدا تعالیٰ کو پکارو اور اسے کہو کہ وہ اسے پرے ہٹالے۔پس یہی ایک علاج ہے جس سے تم اللہ تعالیٰ کے گھر میں داخل ہو سکتے ہو۔تم پہلے دعائیں کرو۔پھر باہر کی جماعتوں کے لوگ دعائیں کریں۔اگر دعائیں کرنے والوں سے کوئی کمزوری سرزد ہوئی ہے تو دعا اسے دور کر دے گی۔اور اگر ان کے ہمسائیوں سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے تو دعاؤں کے نتیجہ میں وہ پھر اتنی حماقت نہیں کریں گے جو شاید گاندھی جی کی کوہ ہمالیہ والی غلطی سے بھی بڑی ہے۔تم اپنے اندر بیداری پیدا کرو اور خدا تعالیٰ سے دعا کرو تا وہ تمہیں مومنوں والا اخلاص اور عمل بخشے اور تمام جماعت کو بھی مومنوں والا اخلاص اور عمل بخشے گا۔“ الفضل مورخہ 3 نومبر 1950ء)