خطبات محمود (جلد 31) — Page 194
$1950 194 خطبات محمود میں بھی اُس وقت آپ کے ساتھ تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں سے روانہ ہوئے اور گاڑی میں سوار ہوئے تو دور تک آدمی کھڑے تھے جنہوں نے پتھر مارنے شروع کر دیئے مگر چلتی گاڑی پر پتھر کس طرح لگ سکتے تھے۔شاذ و نادر ہی ہماری گاڑی کو کوئی پتھر لگتا ورنہ وہ مارتے ہم کو تھے اور لگتا اُن کے کسی اپنے آدمی کو تھا۔پس اُن کا یہ منصوبہ تو خاک میں مل گیا۔باقی جو احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے وہاں جمع تھے اُن میں سے کچھ تو ارد گرد کے دیہات کے رہنے والے تھے جو آپ کی واپسی کے بعد ادھر اُدھر پھیل گئے اور جو تھوڑے سے مقامی احمدی رہ گئے یا باہر کی جماعتوں کے مہمان تھے اُن پر مخالفین نے ٹیشن پر ہی حملے شروع کر دیئے۔ان لوگوں میں سے جن پر کی حملہ ہوا ایک مولوی برہان الدین صاحب بھی تھے۔بدمعاشوں نے ان کا تعاقب کیا ، پتھر مارے، برا بھلا کہا اور آخر ایک دکان میں انہیں گرا لیا۔اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ گو بر لاؤ ہم اس کے منہ میں ڈالیں۔چنانچہ وہ گو بر لائے اور انہوں نے مولوی برہان الدین صاحب کا منہ کھول کر اُس میں گوبر ڈال دیا۔جب وہ مار رہے تھے اور گوبر آپ کے جسم پر ملتے تھے اور پھر آپ کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے تھے تو بجائے اس کے کہ مولوی برہان الدین صاحب انہیں گالیاں دیتے یا شور مچاتے جنہوں نے یہ نظارہ دیکھا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بڑے اطمینان اور خوشی سے یہ کہتے جاتے تھے کہ سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ الله یہ دن کسے نصیب ہوتا ہے۔پھر فرماتے یہ دن تو اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے آنے پر ہی نصیب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے جس نے مجھے یہ دن دکھایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی دیر میں ہی جو لوگ حملہ کر رہے تھے ان کے نفس نے انہیں ملامت کی اور وہ شرمندگی اور ذلت سے آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔تو بات یہ ہے کہ جب دشمن دیکھتا ہے کہ یہ لوگ موت سے ڈرتے ہیں تو وہ کہتا ہے آؤ ہم انہیں ڈرائیں۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شیطان اپنے اولیاء کو ڈراتا ہے۔6 پس جب کوئی شخص ڈرتا ہے تو وہ مجھتے ہیں یہ شیطانی آدمی ہے۔لیکن اگر وہ ڈرتا نہیں بلکہ ان حملوں اور تکالیف کو خدا تعالیٰ کا انعام سمجھتا ہے اور کہتا ہے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے یہ عزت کا مقام عطا فرمایا ہے اور اس نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ میں اس کی خاطر مار کھا رہا ہوں تو دشمن مرعوب ہو جاتا ہے اور پھر خدا بھی اپنے بندہ کے لئے وہ غیرت دکھاتا ہے جس کی مثال اور کہیں نظر نہیں آ سکتی۔