خطبات محمود (جلد 31) — Page 195
$1950 195 خطبات محمود ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ روس کا بادشاہ پیٹرا ایک دفعہ کسی ضروری امر پر غور کرنے کے لئے اپنے چوبارے پر بیٹھ گیا اور اس نے حکم دے دیا کہ کسی شخص کو اندر آنے کی اجازت نہ دی جائے۔پرانے زمانہ میں دروازے نہیں ہوتے تھے صرف پر دے لڑکا لئے جاتے تھے۔اور عربی کتابوں سے پتہ لگتا ہے کہ مسلمانوں کے مکانوں میں بھی دروازے نہیں ہوتے تھے اسی لئے حکم تھا کہ جب آؤ تو اجازت لے کر آؤ۔بہر حال اُس نے ڈیوڑھی پر ٹالسٹائے کو جو اُس کا چپڑ اسی تھا بٹھا دیا اور اُسے کہہ دیا کہ کسی کو اندر نہ آنے دینا میں ایک ضروری امر کے متعلق غور کر رہا ہوں۔اتفاقاً کوئی شہزادہ آ گیا۔اس نے بادشاہ کے پاس کسی کام کے لئے جانا چاہا۔روس کے شاہی قانون کے مطابق شہزادہ کو کوئی شخص روک نہیں سکتا۔شہزادوں کو یہ اجازت تھی کہ وہ بادشاہ کے پاس جب چاہیں چلے جائیں انہیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔پھر ایک یہ بھی روسی قانون تھا کہ کوئی غیر فوجی آدمی کسی فوجی کو نہیں مار سکتا۔دوسرے یہ کہ بڑے افسر کو چھوٹا افسر نہیں مار سکتا۔اور تیسرے یہ کہ کسی شہزادہ کو کوئی غیر شہزادہ نہیں مار سکتا یا کسی نواب کو کوئی غیر نواب نہیں مار سکتا۔پس چونکہ قانون یہ اجازت دیتا تھا کہ شہزادے بغیر کسی روک کے بادشاہ کے پاس چلے جایا کریں اس لئے شہزادہ نے اندر داخل ہونا چاہا مگر جونہی وہ اندر داخل ہونے لگا ٹالسٹائے نے آگے بڑھ کر کہا حضور شہزادہ صاحب! بادشاہ کا حکم ہے کہ کسی کو اندر نہ آنے دیا جائے۔اس نے کہا ٹھیک ہے مگر تمہیں پتا ہے میں شہزادہ ہوں اور شہزادوں کے متعلق یہ قانون ہے کہ وہ بغیر کسی روک کے بادشاہ کے پاس جا سکتے ہیں۔اس نے کہا پتا ہے۔اس پر شہزادے کو غصہ آیا اور اس نے اسے دو چار کوڑے لگائے اور کہا با وجود اس قانون کے معلوم ہونے کے تم یہ جرات کرتے ہو کہ مجھے اندر داخل نہیں ہونے دیتے۔اس نے مار کھالی اور شہزادہ نے بھی دو چار ہنٹر مارنے کے بعد سمجھ لیا کہ اسے اب سبق آ گیا ہو گا۔چنانچہ وہ اندر داخل ہونے کے لئے آگے بڑھا مگر ٹالسٹائے نے پھر اسے روک لیا اور کہا حضور ! بادشاہ نے اندر آنے سے منع فرمایا ہے۔اس پر اس نے پہلے سے بھی زیادہ اسے مارا اور خیال کیا کہ اب اسے سمجھ آگئی ہو گی۔مگر جب اس نے پھر محل میں داخل ہونے کی کوشش کی تو کی ٹالٹائے نے پھر اپنے ہاتھ پھیلا دیئے اور کہا حضور! بادشاہ کا حکم ہے کہ کوئی شخص اندر نہ آئے۔اس پر شہزادہ نے پھر اسے تیسری بار مارا۔شہزادہ کے بار بار مارنے اور پھر غصہ سے اُس کی آواز کے بلند ہونے کی وجہ سے جب شور پیدا ہوا تو قدرتی طور پر بادشاہ بھی اس طرف متوجہ ہو گیا اور وہ تمام نظارہ