خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 192

$1950 192 خطبات محمود کی طرف سے اتنا ہی ثواب دیا جاتا ہے جتنا ثواب روپیہ دینے والوں کو ملتا ہے۔2ے اب یہ کتنی آسان بات ہے کہ ایک شخص دیانتداری سے روپیہ تقسیم کر دے اور اتنا ہی ثواب لے جائے جتنا روپیہ دینے والوں نے لیا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص ان کاموں میں حصہ بٹاتا ہے جو تمام جماعت کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں تو اسے بھی اتنا ہی ثواب مل جاتا ہے جتنا جماعت کے باقی لوگوں کو ان کاموں میں حصہ لینے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے۔پس اگر کسی شخص کو مسجد کے لئے چندہ دینے کی توفیق ملی اور پھر اسے مسجد کے لئے زمین تلاش کرنے کی بھی توفیق ملی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی بناء پر جس میں آپ نے روپیہ تقسیم کرنے والے کو بھی ثواب میں برابر کا حقدار قرار دیا ہے،شاید اسے ان تمام لوگوں کے برابر ثواب مل جائے گا جنہوں نے چندہ دیا۔اور اتنے بڑے ثواب کو کھونا یا اس کی طرف توجہ نہ کرنا بہت ہی خلاف عقل بات معلوم ہوتی ہے۔آج میں اختصار کے ساتھ اس امر کی طرف جماعت کو خصوصاً جماعت کے نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت بہت سخت ہوتی جاتی ہے۔وہ لوگ جو کل تک ہماری جماعت کی تعریف میں رطب اللسان تھے آج ان کے خون کے پیاسے نظر آ رہے ہیں۔آپ لوگوں نے اخبار میں اوکاڑہ کے واقعات پڑھے ہوں گے کہ وہاں ہمارے ایک دوست کو شہید کر دیا گیا ہے۔اب پردہ ڈالنے کے لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ قتل کرنے والے کی مخالفت کی بناء کوئی لین دین کا جھگڑا تھا۔مگر ساتھ ہی یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ وہ جھگڑا دو سال کا پرانا تھا۔حالانکہ اگر یہ بات درست بھی تسلیم کر لی جائے کہ دو سال پہلے کا کوئی جھگڑا تھا تب بھی اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت اس کا قتل کرنا در حقیقت ان مولویوں کی انگیخت کا نتیجہ تھا جنہوں نے ہماری جماعت کے خلاف تقریریں کیں۔ورنہ اگر صرف یہی جھگڑا اختلاف کا باعث تھا تو اس نے گزشتہ دو سال میں یہ فعل کیوں نہ کیا۔اگر ایک شخص دیکھے کہ کوئی اس کے بچہ کو پیٹ رہا ہے اور وہ اُس وقت خاموش رہے لیکن دو سال کے بعد مارنے والے کو پیٹنے لگے اور کہے کہ میں اُسے اس لئے پیٹ رہا ہوں کہ اس نے آج سے دو سال پہلے میرے بچہ کو مارا تھا تو کون شخص اس کی بات کو تسلیم کرے گا۔ہر شخص کہے گا کہ اب اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد تمہارا پیٹنا اگر اشتعال کی وجہ سے ہے تب بھی اس اشتعال کو کسی اور چیز نے تازہ کر دیا ہے۔اسی طرح اس اشتعال کو زندہ کرنے والا ، اس اشتعال کو تازہ کرنے والا اور اس اشتعال کو ابھارنے والا مولویوں کا لوگوں