خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 191

$1950 191 (24) خطبات محمود نبیوں کی جماعتوں کو پتھر کنکر اور کانٹوں پر سے ہی گزرنا پڑا ہے (فرموده 6 / اکتوبر 1950ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ جمعہ کے خطبہ کے بعد میری کھانسی تیز ہو گئی حتی کہ اتوار کی رات کو تو اس قدر شدید کھانسی کی تھی کہ گزشتہ دو مہینے میں مجھے ایسی کھانسی نہیں ہوئی۔اور گوساری رات ہی کھانسی کی شدید تکلیف رہی لیکن رات کے تین بجے سے لے کر پانچ بجے تک تو یہ تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ برابر دو گھنٹے تک یکساں کھانسی اٹھتی چلی گئی اور صبح کے وقت جا کر افاقہ ہوا۔اب آہستہ آہستہ پھر کم ہوئی ہے۔لیکن میں باوجود اس خطرہ کے کہ خطبہ پڑھانے کی وجہ سے ممکن ہے کھانسی پھر دوبارہ زیادہ ہو جائے خطبہ کے لئے آ گیا ہوں۔ساتھ ہی اس کے کل سے پھر نقرس کا دورہ ہے جس کی وجہ سے آج مجھے کرچ (Crutch 1 پکڑ کر آنا پڑا کی ہے۔یہ دورہ اتنا شدید تو نہیں کہ میں چل نہ سکوں لیکن سونٹوں کے سہارے بغیر چلنا مشکل میں نے گزشتہ خطبہ میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ مسجد کے بڑھانے کی طرف جہ کریں۔مجھے خوشی ہے کہ بعض دوستوں نے اس کی طرف توجہ کی ہے۔چنانچہ میاں سراج الدین صاحب جنہوں نے مسجد کے لئے پانچ ہزار روپیہ چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے انہوں نے بعض زمینیں دیکھی ہیں اور مجھ سے انہوں نے ذکر بھی کیا ہے۔اگر اور دوست بھی مسجد کے لئے زمین تلاش کر کے اطلاع دیں تو انتخاب زیادہ بہتر ہوسکتا ہے ورنہ سراج الدین صاحب ہی جس حد تک تحقیق کر چکے ہیں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کر دیا جائے گا تاکہ زمین کا سودا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ چاہے تو مسجد مکمل ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مال کی تقسیم پر مقرر ہوتا ہے اُس کو اللہ تعالیٰ