خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 179

$1950 179 خطبات محمود میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ لاہور میرا دوسرا وطن ہے یہیں میری پہلی شادی ہوئی ہے اور اس وجہ میں بڑی کثرت سے لاہور آیا جایا کرتا تھا۔پس لاہور سے مجھے محبت ہے۔مگر جو نقص ہے وہ بہر حال نقص ہے اور اس کو جماعت کی اصلاح کے لئے بیان ہی کرنا پڑتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ میں نے ی یہاں کی جماعت میں تبلیغ کا وہ احساس نہیں دیکھا جو کوئٹہ اور کراچی کے لوگوں میں میں نے دیکھا ہے۔یہاں ہمارے دل میں کبھی خود خواہش ہوتی ہے کہ جماعت کوئی تقریب پیدا کرے تاکہ دوسروں سے ہم مل سکیں۔مگر جماعت نے اس طرف کبھی توجہ نہیں کی۔میں سمجھتا ہوں لاہور میں دو سال رہ کر بھی ہم اتنے لوگوں سے واقف نہیں ہو سکے جتنے لوگوں سے ہیں دن کراچی رہ کر ہم واقف ہوئے ہیں یا جتنے لوگوں سے تین مہینے کو ئٹہ رہ کر ہم نے واقفیت پیدا کی ہے۔وہاں کی جماعت میں جوش تھا کہ کسی طرح تبلیغ کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جائیں۔کہیں دعوتیں دے رہے ہیں، کہیں چائے پر بلا رہے ہیں، کہیں جلسہ تجویز کر رہے ہیں اور اگر میں بیمار ہوں تو میرے ساتھیوں کو لے جارہے ہیں اور آٹھ آٹھ دس دس آدمیوں کو تبلیغ کرا رہے ہیں اور ان سے اپنے دوستوں کو ملوار ہے ہیں۔پھر جو موقع بھی نکلے اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے وہ تیار نظر آتے تھے۔عصر کے بعد کوئی اچھا موقع ہے تو عصر کے بعد دوستوں کو لا رہے ہیں ، ظہر کے بعد کوئی اچھا موقع ہے تو ظہر کے بعد لا رہے ہیں، دو پہر کو کوئی اچھا موقع ہے تو دو پہر کو لا رہے ہیں۔غرض سینکڑوں آدمیوں سے چند دنوں میں ہی میں واقف ہو گیا۔میں سمجھتا ہے ہوں کوئٹہ میں دعوتوں ، پارٹیوں اور انفرادی ملاقاتوں کو ملا کر تین ماہ میں کوئی چھ سات سو نیا آدمی ہمیں ملا ہو گا جن میں سے اکثر افسر اور عہدیدار تھے اور اس طرح ان سے ہماری واقفیت ہوئی۔اسی طرح کراچی میں ہم اٹھارہ اُنہیں دن رہے ہیں۔ان اٹھارہ انیس دنوں میں جتنے آدمیوں سے ہماری واقفیت ہوئی۔لاہور میں اتنے آدمیوں سے دو سال میں بھی واقفیت نہیں ہوئی۔بعض جگہ انہوں نے سو سوا سو آدمی بلا یا ، بعض جگہ چالیس چالیس پچاس پچاس آدمی بُلائے اور بعض جگہ آٹھ دس آدمی بھی تھے۔فوجیوں نے بھی دو پارٹیاں کیں۔ڈرگ روڈ میں جو فوجی رہتے تھے انہوں نے الگ پارٹی کی اور ملیر میں جو فوجی رہتے تھے انہوں نے الگ پارٹی کی۔پھر ہر ایک نے اس بات کا انتظام کیا کہ لوگ مختلف سوالات کریں۔جہاں وہ نہیں بولتے تھے وہاں آپ سوال کر کے بات شروع کر دیتے تھے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ جن لوگوں میں تعصب اور مخالفت کا مادہ تھا اور سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو کھانے یا تی