خطبات محمود (جلد 31) — Page 178
$1950 178 خطبات محمود کسی کیمپ پر لگے ہوئے تھے انہوں نے بتایا کہ میری بیوی نے آپ کے سلسلہ کا لٹریچر پڑھا ہے۔یہ یاد م نہیں رہا کہ انہوں نے یہ کہا کہ انہوں نے خود ہی سلسلہ کی کتابیں منگوا کر پڑھنی شروع کیں یا یہ کہا کہ ان کے کسی رشتہ دار نے انہیں لٹریچر دیا۔بہر حال انہوں نے بتایا کہ یہ احمدیت سے بہت متاثر ہیں اور ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ احمدی مہاجرات کو کسی کام پر لگایا جائے اور اس بارہ میں یہ ہمیشہ کام کرتی ہے رہی ہیں۔مگر اب بعض افسر مخالفت کرتے ہیں اس لئے انہوں نے چاہا ہے کہ آپ کو یہ تحریک کی جائے کہ آپ کوئی اپنا کارخانہ کھولیں۔کام سکھانے والے آدمی ہم دیں گے اور آپ کی جماعت کی عورتوں کو کام سکھائیں گے۔اب دیکھو اس عورت میں یہ جوش تھا کہ احمدی عورتوں کی مدد کی جائے۔مگر یہ جوش اس کے دل میں اس لئے پیدا ہوا کہ سلسلہ کا لٹریچر اس نے پڑھا اور وہ احمدیت کو سمجھنے لگی۔اسی طرح کراچی میں ایک دوست ملے انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کا لٹریچر پڑھا ہے اور سلسلہ کی بہت سی کتابیں بھی میں دیکھ چکا ہوں۔میں نے کہا آپ فرما ئیں تو آپ کو انگریزی ترجمہ القرآن کی ایک کا پی بھجوا دوں؟ وہ کہنے لگے آپ کے لٹریچر کی میری بیوی بہت شائق ہے اور وہ اردو جانتی ہے اس لئے آپ اردو لٹریچر بھجوائیے ورنہ اُسے گلہ رہے گا کہ میرے لئے کوئی لٹریچر نہیں منگوایا۔تو عورتوں کی تعلیم کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد بھی دین کی طرف توجہ کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ جو آئے دن لوگوں کو ٹھوکریں لگتی رہتی ہیں یہ اس بات کا نتیجہ ہوتی ہیں کہ انہوں نے احمدیت کا صحیح مطالعہ نہیں کیا ہوتا۔اگر احمدیت کا صحیح طور پر مطالعہ ہو تو اس کے بعد اگر مرد کو ٹھوکر لگے تو عورت اسے سمجھا سکتی ہے۔اور اگر مرد کا صحیح مطالعہ ہو اور عورت کو ٹھوکر لگے تو وہ اپنی عورت کو سمجھا سکتا ہے۔اب ایک کا مطالعہ صحیح نہیں ہوتا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ان میں سے کسی ایک کو ٹھوکر لگتی ہے تو دوسرا اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔مگر پہلی چیز مسجد کی وسعت ہے۔جب تک مسجد وسیع نہ ہو جائے وہ خطبہ جو ہفتہ میں ایک دفعہ دینا پڑتا ہے اس کے سننے سے بھی عورتیں محروم رہیں گی۔تمہارا مبلغ بیمار ہے تو وہ درس بند کر سکتا ہے ہے۔تمہارا مدرس بیمار ہے تو وہ سبق بند کر سکتا ہے مگر جمعہ کا خطبہ بند نہیں ہوسکتا۔ایک بیمار ہوتو دوسرا کھڑا ہو جائے گا دوسرا بیمار ہوتو تیسرا کھڑا ہو جائے گا کیونکہ یہ ایک الہی حکم ہے جس کو بہر حال پورا کرنا ہوتا ہے ہے۔پس اس چیز سے عورت کو محروم کرنا جماعت کے نظام کو توڑنے کے مترادف ہے۔پس کوشش کیجئے کہ جلد سے جلد آپ ایک بڑی جامع مسجد لاہور میں تیار کر سکیں۔