خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 177

$1950 177 خطبات محمود محض ہماری سستی کا نتیجہ ہے کہ ہم عورتوں کو تعلیم نہیں دیتے اور ان کے لئے ایسے مواقع ہم نہیں پہنچاتے کہ وہ دین سے اچھی طرح آگاہ ہو سکیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک صاف ورق کی طرح ہوتی ہیں اور دشمن کے لئے موقع ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے اس پر لکھ دے۔اگر ہم ان کے دلوں پر دین کو اچھی طرح نقش کردیں تو وہ ایسی مضبوط ثابت ہوں کہ مردوں سے بھی اپنے ایمان میں بڑھ جائیں۔ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ مرد کو ٹھوکر لگی ہے مگر عورت مخلص رہی ہے اور آخر عورت اپنے خاوند کو بچا کر لے آئی ہے۔اس کے مقابلہ میں عورتوں کی عام حالت یہ ہے کہ چونکہ ان میں دینی تعلیم کم ہے اگر ان کے خاوند کسی وقت مُرتد ہوتے ہیں تو ساتھ ہی وہ بھی مرتد ہو جاتی ہیں۔چنانچہ آج تک جتنے لوگ مرتد ہوئے ہیں اُن کے ساتھ ہی اُن کی بیویاں بھی مرتد ہوتی رہی ہیں۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اُن کا ایمان محض رسمی تھا۔اس کے مقابلہ میں جہاں صحیح ایمان تھا وہاں بعض عورتوں نے اپنے خاوندوں کا اتنا سخت مقابلہ کیا کہ آخر انہیں دین کی طرف واپس لے آئیں۔لیکن جہاں بھی عورت کی دینی تعلیم کم تھی وہاں خاوند کو ٹھوکر لگی تو ساتھ ہی عورت بھی ٹھوکر کھا گئی۔خاوند کو تو کہیں نوکری کی وجہ سے ٹھوکر لگتی ہے۔کہیں کسی مقدمہ کی وجہ سے ٹھو کر لگتی ہے کہیں کوئی اور باعث ہوتا ہے مگر جس رات وہ مرتد ہوتا ہے اُسی رات اس کی بیوی کا ایمان بھی خراب ہو جاتا ہے۔پس ضروری ہے کہ عورتوں کو دینی تعلیم سے واقف کیا جائے۔مگر اس مسجد میں لاہور کی موجودہ جماعت کی عورتوں کو تعلیم نہیں دی جاسکتی بلکہ ہفتہ کا ایک خطبہ بھی وہ نہیں سن سکتیں۔پس ضروری ہے کہ ہمارے پاس اس مسجد سے بڑی مسجد ہو اور ضروری ہے کہ یہاں کے مقامی مبلغ لجنہ اماءاللہ کو توجہ دلا کر ایسا انتظام کریں کہ عورتوں کو دینی تعلیم دی جا سکے۔وہ ان کے سامنے نبوت ، وفات مسیح ، صداقت مسیح موعود اور موجودہ زمانہ کے اہم مسائل پر تقریریں کریں اور پھر سادہ اور آسان الفاظ میں ان کو نوٹ لکھوائیں تا کہ وہ ان کو یاد رکھیں اور ضرورت کے وقت ان سے فائدہ اٹھا ہم سکیں۔میں سمجھتا ہوں اگر اس رنگ میں عورتوں کو تعلیم دی جائے ، ان کے سامنے تقریریں کی جائیں اور ی انہیں مختلف مسائل پر نوٹ لکھوائے جائیں تو تھوڑے ہی دنوں میں عورتوں کی تبلیغ مردوں سے آگے نکل جائے۔اور اگر عورتوں میں ہمارا تبلیغی اثر پہنچ جائے تو مرد خود بخو وسلسلہ کی طرف توجہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ایک سال کا عرصہ ہوا ایک افسر مجھے ملنے کے لئے آئے۔انہوں نے مجھے پیغام بھجوایا کہ میں نے اور میری بیوی نے اکٹھا ملنا ہے۔میں نے کہا آجائیے۔وہ آئے اور ملے۔وہ اُس وقت مہاجرین کے