خطبات محمود (جلد 31) — Page 167
$1950 167 خطبات محمود آنا چاہیے کیونکہ جمعہ کی مثال عید کی طرح ہے۔جس طرح عید میں ایک بڑا مجمع ہوتا ہے خطبہ پڑھایا جاتا ہے اور قومی ضرورتوں کے متعلق جماعت کو توجہ دلائی جاتی ہے اس طرح جمعہ کے دن تمام شہر کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور خطبہ میں ان کو ان کی وقتی یا مستقل ضرورتوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔پس عورتیں جو جماعت کا ایک ضروری حصہ ہیں اُن کو ان ضرورتوں سے ناواقف رہنے دینا یا ان کو واقفیت کے مواقع بہم نہ پہنچانا یہ اپنی ترقی اور قومی اتحاد کے راستہ میں روک پیدا کرنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم میں جو بالغ مرد ہوتے ہیں وہ اوسطاً 1/4 ہوتے ہیں۔کسی قوم میں 1/3 اور کسی قوم میں 1/4۔بعض جگہ پر تو اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ہمارے احمدیوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے نسل زیادہ چلتی ہے۔دوسرے لوگوں سے پوچھو کہ کتنے بچے ہیں؟ تو وہ کہیں گے کہ ایک بچہ ہے یا دو بچے ہیں۔لیکن کسی احمدی سے پوچھ تو وہ چھ بچوں سے کم نہیں بتائے گا۔کہے گا میرے چھ بچے ہیں یا سات بچے ہیں یا آٹھ بچے ہیں یا نو بچے ہیں۔یہ ایک الہی فضل ہے اور یہ بات بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سکیم جاری ہے تا کہ احمدیت کو دنیا پر غالب کر دے۔دنیا میں ترقی قوم کے دو ہی راستے ہوتے ہیں ایک تبلیغ کا راستہ اور ایک عورت کا راستہ۔یا عورتوں کے ذریعہ نسل بڑھانا یا تبلیغ کے ذریعہ جماعت بڑھانا۔ان دو راستوں میں سے تبلیغ کے راستہ کی طرف ہماری جماعت پوری طرح متوجہ نہیں۔کرتے ہیں تبلیغ ہمگر سارے نہیں کرتے کم کرتے ہیں۔اور کرتے ہیں تبلیغ لیکن جو طریق ہیں صحیح تبلیغ کے اُس طرح نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ثمرہ ہم کو اتنا وافر نہیں ملتا جتنا ملنا چاہیے۔مگر جو خدا کا حصہ ہے وہ اس سے غافل نہیں۔ہمیں اگر چہ سال میں چار احمدی بنانے چاہئیں مگر ہم میں سے بہت کم ہیں جو ایک احمدی بھی بناتے ہیں۔اور بعض تو بالکل تبلیغ کرتے ہی نہیں۔تو گو ہم اس فرض سے غافل ہوتے ہیں مگر ہمارا خدا غافل نہیں ہوتا۔ہم بعض دفعہ عمر بھر میں ایک آدمی بھی نہیں لاتے مگر خدا ہم کو دس سال میں دس بچے دے دیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ اگر تم اُس طرح اپنی تعداد نہیں بڑھاتے تو میں اس طرح تمہاری تعداد بڑھا دیتا ہوں۔مگر وہ بچے کس کام کے اگر اُن کی تربیت کرنے والا کوئی نہیں۔آپ اپنے گھروں میں بیٹھ نہیں سکتے۔نو بجے آپ نے گھر سے باہر کی تیاری کی اور نو بجے تک جو آپ اپنے گھروں میں رہتے ہیں اس میں بھی کئی کام کاج ہوتے ہیں۔شام کو آپ واپس آتے ہیں تو تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔کچھ دیر آرام کیا، کھانا کھایا اور رات ہوگئی۔بچے کچھ پہلے سونے کے عادی ہوتے ہیں