خطبات محمود (جلد 31) — Page 168
$1950 168 خطبات محمود وہ سوئے تو عورت نے اپنی ضرورتیں بیان کرنی شروع کر دیں۔اور پھر انہی باتوں میں نیند آئی اور سوی گئے۔پس بچوں کی تربیت کے لئے آپ کے پاس بہت ہی کم وقت ہوتا ہے۔یہ وقت عورت کے پاس ہی ہے اور وہی اپنے بچوں کی صحیح تربیت کر سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کا ملازمتیں کرنا اور ان کا گھروں سے باہر رہنا پسند نہیں کیا۔باقی مذاہب نے اس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی اور انہوں نے اپنے اجتہاد سے ایسی تعلیم عورتوں کے لیے جائز سمجھی جس سے وہ نوکری کرنے کے قابل ہو سکیں اور ایسی تعلیم جائز بھی جس سے وہ آزاد زندگی بسر کر سکیں۔لیکن اسلام نے عورت کا ایک مقصد مقرر کیا اور پھر اس نے عورت کے کاموں کو ایسے رنگ میں معتین اور محدود کر دیا کہ وہ زیادہ وقت اپنی اولاد کی تعلیم اور اس کی تربیت میں صرف کرے اور کچھ وقت اپنی بہنوں اور رشتہ داروں کی اصلاح اور ان کی علمی ترقی میں خرچ کرے۔لیکن اگر عورت کو وہ تعلیم ہی نہیں دی گئی جس سے کام لے کر وہ صحیح تربیت کر سکے تو اس کی ایسی ہی مثال ہوگی جیسے سپاہی تو بھرتی کر لئے جائیں مگر انہیں کام نہ سکھایا جائے۔یا ایسی فوج بھرتی کی کر لی جائے جس میں فوج کی کوئی خوبیاں نہ ہوں۔ظاہر ہے کہ وہ فوج لڑنے کے قابل نہیں ہوگی گونام کے لحاظ سے وہ فوج ہی کہلائے گی۔اسی طرح آپ لوگ بھی اگر اپنی عورتوں کو یہ مواقع ہم نہیں پہنچاتے کہ وہ دین کی باتیں سنیں یا اس لالچ اور حرص کے زمانہ میں آپ بھی دوسروں کو دیکھتے ہوئے یہ چاہتے ہیں کہ ہم عورت کو ایسی دنیوی تعلیم دلائیں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ غیروں میں تو یہ بات قابل برداشت سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ اگر وہ اپنی لڑکی کا کسی عیسائی سے بھی بیاہ کر دیں تو وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔مگر ہمارے ہاں دوسرے مسلمان سے بھی نکاح جائز نہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ ضائع ہو جاتی ہیں یا ساری عمر کنواری رہتی ہیں یا دوسری جگہ شادیاں کر لیتی ہیں۔تو ماں باپ محبت کی وجہ سے ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتے اور اس طرح اُن کے ساتھ ہی خود مرتد ہو جاتے ہیں اور یا پھر جھوٹ بول کر ہماری سزا سے بچنا چاہتے ہیں۔تب وہ لوگوں کی نظروں میں تو مرتد نہیں ہوتے مگر خدا تعالیٰ کی نظروں میں وہ مرتد ہی سمجھے جاتے ہیں۔دوسرے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ اُمم طاہر کی بیماری کے دنوں میں جب میں نے انہیں گنگا رام ہاسپٹل میں داخل کیا تو ایک ہندو مجھے ملے اور انہوں نے اپنی بیوی بھی مجھ سے ملوائی۔وہ اُمم طاہر کی خبر گیری کے لئے آئے تھے۔اُم طاہر کے بھائی چونکہ جیل خانہ کے افسر تھے اور انہوں نے اُس ہندو