خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 164

$1950 164 خطبات محمود والوں کے لئے مقدر ہیں اور جو لازماً ایک دن ملنے والے ہیں۔زمین مل جائے آسمان ٹل جائے آخر احمدیت نے دنیا میں قائم ہوتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی ایک اہل تقدیر ہے۔اُس کی طرف یہ منسوب کرنا کہ اس نے اپنا ایک مامور بھیجا مگر وہ ہار گیا ایک پاگل پن کی بات ہے۔اگر خدا ہے اور اگر خدا اپنے نبیوں کو بھیجتا رہا ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا تھا تو ہم اپنے وجود میں شبہ کر سکتے ہیں، ہم اپنے کان، ناک، منہ اور زبان میں شبہ کر سکتے ہیں، ہم اپنے بیوی بچوں کے وجود میں شبہ کر سکتے ہیں مگر ہم اس بات میں کوئی شبہ نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ کا مامور اور مرسل جس تعلیم کو لے کر آیا ہے وہ یقینا اپنے وقت پر کامیاب ہوگی۔دشمن اس سے ٹکرائے گا تو پاش پاش ہو جائے گا۔جس طرح ایک دریا کی زبر دست لہریں چٹان سے ٹکرا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوتی ہیں اُسی طرح ان کی مخالفت ناکام ثابت ہوگی اور یہ سلسلہ عروج حاصل کرتا چلا جائے گا۔ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا ہے۔لوگ نہ ہونے والی چیزوں کے متعلق اپنا پورا زور صرف کر دیا کرتے ہیں اور ہم تو وہ کام کر رہے ہیں جو یقیناً ہونے والا ہے اور جس کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے 2 اگر خدا تعالیٰ کی بات ٹل جائے تو اُس کی خدائی ہی باطل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ اور اُس کے ہم بندوں کی باتوں میں فرق یہی ہوتا ہے کہ بندہ بعض دفعہ پورے سامانوں کے ساتھ اٹھتا ہے اور نا کام ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ جس بات کا فیصلہ کر لے اُس کے پورا ہونے میں کوئی چیز روک نہیں بن سکتی۔آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہو گی اگر آپ اس کام میں حصہ لے کر آنے والی کامیابی کو قریب کر دیں اور خدا تعالیٰ کی بات کو پورا کر کے اُس کا ہتھیار بن جائیں۔کیونکہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا ہتھیار بن جاتا ہے ہے وہ بابرکت ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ میں تجھے بہت برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔3 اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑے آپ کے جسم سے چُھو کر بابرکت ہوگئے تو یہ سمجھ لو کہ اگر تم خدا تعالیٰ