خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 156

$1950 156 خطبات محمود سے یہ روپیہ پیدا نہیں کر سکتا۔بہر حال جماعت کو ہی یہ چندہ دینا پڑے گا اور ان کے ایمان کی آزمائش کے بعد ہی یہ کام چل سکے گا۔اگر جماعت کے ایک حصہ کو جو وعدہ تو کرتا ہے مگر اس کے ایفاء کی طرف توجہ نہیں کرتا ہمیں الگ کرنا پڑے تو ہم اسکے نکالنے میں ذرہ بھر بھی پروا نہیں کریں گے۔بلکہ میرے نزدیک تو آدھی یا 3/4 جماعت بھی اگر الگ کر دی جائے تو ہمیں اُس کے الگ کرنے میں کوئی چی گھبراہٹ نہیں ہو سکتی۔میں نے ایک وسیع تجربہ کے بعد اور کلام الہی کا عمیق مطالعہ کرنے کے بعد اس حقیقت کو پالیا ہے کہ خدائی سلسلوں میں افراد کی کوئی قیمت نہیں ہوتی صرف اخلاص کی قیمت ہوتی تو ہے۔اگر جماعت کا کچھ حصہ کٹ جائے یا کاٹنا پڑے تو اس سے جماعت کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا بلکہ پھر بھی وہ آگے ہی اپنا قدم بڑھائے گی۔مگر یہ بھی ایک وسیع مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ آدمیوں سے ہی کام لیتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر سو میں سے پچاس آدمی رہ جائیں تو خدائی جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ کامیابی اور فتح کے لئے یہ کی ضروری ہے کہ پچاس کو سو بنایا جائے ، سو کو ہزار بنایا جائے اور ہزار کولاکھ بنایا جائے اور لاکھ کو کروڑ بنایا ہے جائے۔آدمیوں پر خدائی سلسلوں کا انحصار نہیں ہوتا۔مگر فتح کے لئے آدمیوں کی اکثریت ضروری ہوتی ہے اور اکثریت پیدا کرنے سے غافل رہنا نادانی اور جہالت کا کام ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کہا کہ مجھے آدمیوں کی ضرورت نہیں ، اگر میں کہتا ہوں کہ مجھے آدمیوں کی ضرورت نہیں تو اس کے یہ معنے نہیں کہ ہمیں آدمی بڑھانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے صرف اتنے معنے ہیں کہ جماعت کا قیام اور اس کی ترقی آدمیوں پر منحصر نہیں۔اگر کسی وقت کمزور عصر کو الگ کر دیا جاتا ہے تو جماعت کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ورنہ کوشش ہم بھی یہی کرتے ہیں کہ ہم سو سے ہزار بنیں اور ہزار سے دس ہزار بنیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ اکثریت بنا کر اپنے سلسلہ کو غلبہ دیا کرتا ہے۔یہ صرف جبری طاقتوں کا طریق ہوتا ہے کہ وہ اقلیت میں ہوتے ہوئے اکثریت پر حکومت کرنے لگ جاتی ہیں۔جیسے بالشوزم ہے یا فیسزم (Fascism) ہے یا ناسزم ہے۔ان کو جب اتنی طاقت حاصل ہوگئی کہ زیادہ لوگوں کو دبا سکیں تو انہوں نے دبا لیا۔لیکن اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔وہ اُسی وقت اجازت دیتا ہے جب مومنوں کی اکثریت ہو۔اقلیت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ زبر دستی حکومت پر قبضہ کر لے۔اس قسم کا خیال قطعاً غیر اسلامی ہے جس کی اسلام تائید نہیں کرتا۔