خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 155

$1950 155 خطبات محمود تبلیغ کا ذکر آیا تو وہ کہنے لگا کہ اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ تبلیغ آپ لوگ ہی کر رہے ہیں۔گویا ایک ہی ہے چیز جو جماعت کی عزت اور اس کے وقار کو قائم رکھے ہوئے ہے آپ لوگوں کی سستی اور غفلت کی وجہ سے یا تو اسے بند کرنا پڑے گا اور یا پھر فیصلہ کرنا پڑے گا کہ جماعت کے اہم کاموں میں بھی جو لوگ دلچسپی نہیں رکھتے اُن کو الگ کر دیا جائے۔کیونکہ ایک طرف یہ دعوی کرنا کہ جماعت بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف یہ کہنا کہ ہم اپنے کچھ مشنوں کو بند کر رہے ہیں اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم بے ایمان ہو رہے ہیں۔لیکن اگر ہم دشمن کو کہیں کہ ہم نے اپنی آدھی جماعت نکال دی ہے تو وہ مشنوں کے کم ہونے پر اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ وہ کہے گا کہ جب آپ کی جماعت کم ہو گئی ہے تو مشن بھی لازماً کم ہونے تھے۔لیکن ایک طرف یہ کہنا کہ جماعت بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف یہ کہنا کہ کام گھٹ رہا ہے اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔پس میں جماعت کو ایک دفعہ پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے۔مجھے معلوم نہیں کہ جماعت کراچی کس حد تک تحریک جدید کے وعدوں کو پورا کر رہی ہے جہاں تک نئے نو جوانوں کا تعلق ہے میں دیکھتا ہوں کہ ان کی حالت بہت زیادہ افسوسناک ہے۔چھٹے سال کے وعدے ایک لاکھ بیس ہزار کے تھے مگر اس میں سے صرف تینتالیس فیصدی وصولی ہوئی ہے۔حالانکہ نوجوانوں میں اخلاص اور قربانی کی روح پہلوں سے زیادہ ہونی چاہیے کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک اُس کے نو جوان پہلوں سے زیادہ قربانی کرنے والے نہ ہوں۔پس ایک طرف تو میں آپ لوگوں کو جو اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں اور اتفاق کی بات ہے کہ مجھے پہلے یہیں اس بات کے کہنے کا موقع ملا تو جہ دلاتا ہوں کہ اگر تحریک جدید کے وعدوں کے بارہ میں آپ کے اندر غفلت پائی جاتی ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کریں ورنہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان دو کے علاوہ تیسر ا علاج کوئی نہیں۔مجھے کیمیا گری نہیں آتی کہ آپ چندے نہ دیں اور میں کیمیا گری سے اس کمی کو پورا کر لیا کروں۔روپیہ بہر حال جیسے آدم سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک اللہ تعالیٰ کی سنت چلی آئی ہے جماعت کو ہی مہیا کرنا پڑے گا اور جماعت کے دوستوں کو ہی یہ بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے کیمیا گری کر کے روپیہ بنایا، نہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایسا کیا، نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا کیا اور نہ کسی اور نبی نے ایسا کیا۔میں بھی اُن کی سنت اور طریق پر کیمیا گری