خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 100

$1950 100 خطبات محمود دوسرے کوئی وجہ نہیں کہ یہ تکالیف اور مصائب اُسے صرف احمدیت کی وجہ سے پہنچیں بلکہ اگر وہ ہے احمدی نہ بھی ہوتا تب بھی اُسے تکلیفیں پہنچنی تھیں۔چاہے کسی رنگ میں وہ نقصان اٹھاتا وہ ضرور نقصان اٹھاتا۔لوگ صرف تمہاری مخالفت ہی نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی بھی کرتے ہیں۔تمہیں ہر جگہ نظر آئے گا کہ تمہاری جو مخالفت کرتا ہے وہ اپنے بھائی کی بھی مخالفت کرے گا کہ کہیں وہ تجارت میں اس سے آگے نہ بڑھ جائے۔وہ ایک تیسرے شخص کی مخالفت بھی کرتا ہے اس لئے کہ آئندہ کسی وقت ان دونوں کا عہدہ میں ترقی کے وقت مقابلہ ہونا ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے پہلے ہی گرالے۔پس یہ بات ہی غلط ہے کہ صرف احمدیت کی وجہ سے تمہیں تکلیفیں پہنچ رہی ہیں يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخالفین کو بھی ویسی ہی تکلیفیں پہنچ رہی ہیں جیسی تمہیں پہنچ رہی ہیں۔صرف یہاں نام مذہب کا ہے۔دوسری جگہوں پر جتھا بازی بھی ہوتی ہے اور قوم پرستی بھی ہوتی ہے۔مثلاً فلاں جاٹ ہے میں سید ہوں، فلاں کشمیری ہے میں پٹھان ہوں، فلاں راجپوت ہے میں مغل ہوں۔پھر پارٹی بازی ہوتی ہے کہ فلاں ، فلاں افسر کے ساتھ ہے میں فلاں افسر کے ساتھ ہوں۔پھر ترقیوں کے اوپر مقابلہ کا سوال آتا ہے۔گویا وہاں تو سینکڑوں وجوہ ہیں جن کی وجہ سے مخالفت ہوتی ہے اور یہاں صرف ایک ہی وجہ ہے کہ تم احمدی ہو۔گویا احمدی ہو کر تم نے اپنی مخالفت کو محدود کر لیا۔یہی حال تجارتوں میں بھی ہے۔غرض اصل گند یہ ہے کہ لوگوں میں حسد کا مادہ پایا جاتا ہے۔جیسے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ 4 یعنی لوگوں میں حسد کا مادہ پایا جاتا ہے جس سے محفوظ رہنے کی دعا کرنی چاہیے۔غرض دکھ اور تکلیف سے نہ کوئی رسول دنیا میں بچا ہے اور نہ مومن اور نہ کا فر۔مصائب ہر ایک پر آتے ہیں۔امریکہ کتنا دولت مند ملک ہے لیکن اس میں بھی نو لاکھ کے قریب بیکار موجود ہیں۔اب اگر جنگ ہوئی تو اگر چہ جنگ عذاب ہے مگر ان نو لاکھ بیکاروں کے لئے روزی کا ذریعہ کھل جائے گا۔انگلستان میں اس سے بہت زیادہ آدمی بریکار ہیں۔انگلستان کی کل آبادی قریباً چار کروڑ ہے۔اس میں دس بارہ لاکھ کے قریب افراد بیکار ہیں۔حالانکہ وہ بہت بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔انگلستان میں رواج ہے کہ وہاں رستوں پر تھوڑی تھوڑی دور ڈرم پڑے ہوتے ہیں۔ہماری طرح لوگ وہاں گھروں سے باہر گند نہیں پھینک دیتے بلکہ انہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ انہی ڈرموں میں گند پھینکیں اور ہر ایک شخص یہ احتیاط کرتا ہے کہ وہ کوڑا کرکٹ ڈرم سے باہر نہ پھینکے۔میرے ایک عزیز نے مجھے سنایا کہ ہم