خطبات محمود (جلد 31) — Page 84
$1950 84 خطبات محمود پیدا نہیں ہوتا کہ وہ و ہم کرے۔اُس نے اپنی باگ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دی ہے۔وہ جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھتا ہے، وہ اُس کے کاموں میں دخل دیتا ہے، وہ اس کی رہنمائی کرتا ہے۔جب کوئی شخص اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ شرک نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس نے دیکھ لیا کہ اس کے نفس سے بڑا راہنما موجود ہے اور وہ اُسی کو خدا کہتا ہے۔جو وہ کرے گا وہ ٹھیک ہے۔اگر وہ کہہ دے گا یہ کام کرو تو میں کروں گا اور اگر وہ کہے گا ٹھہر جا تو میں ٹھہر جاؤں گا۔میں نے یہاں نفس کی مثال دی ہے لیکن اس سے بھی بڑی اور قوی چیز میں اور بھی موجود ہیں۔مثلا رسم و رواج ہیں ، عادات و اطوار ہیں۔وہاں اپنا نفس بھی بھول جاتا ہے۔ہمارے ہاں مثل مشہور ہے کہ کھایئے من بھاتا اور پہنئے جگ بھاتا۔یعنی کھاؤ وہ جو تمہاری زبان کو مزیدار لگے اور پہنو وہ جو لوگوں کو پسند ہو۔مگر یہ بات کہنے والے پرانے زمانہ کے لوگ تھے۔یہ اُس زمانہ کے لوگ تھے جب رسم و رواج نے ترقی نہیں کی تھی۔اب تو لوگ نہ کھاتے اپنی مرضی کا ہیں اور نہ پہنتے اپنی مرضی کا ہیں۔اب وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو دوسرے کرتے ہیں۔وہ کھانا بھی وہی کھائیں گے جو دوسرے کھاتے ہیں خواہ ان کی زبان کو اچھا لگے یا نہ۔اور لباس کے متعلق تو لازمی بات ہے کہ وہ وہی پہنیں گے جو دوسرے پہنتے ہیں۔پھر اس کے آگے اور باتیں آجائیں گی۔جو کام بھی وہ دیکھیں گے کہ غالب شخص یا غالب قوم کر رہی ہے وہ کرنے لگ جائیں گے۔اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ - تم اکثریت کے فیصلہ کو دیکھنے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ آیا اکثریت ہمیشہ حق پر ہوتی ہے یا وہ نمایاں غلطیاں بھی کرتی ہے؟ ایک ایسا انسان جس کو خدا تعالیٰ کی راہنمائی حاصل نہیں وہ کہہ دے گا کہ میرا وہی مذہب ہے جوا کثریت کا ہے۔لیکن ایک مسلمان جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اُس کے سامنے اگر یہ سوال رکھا جائے کہ اکثریت ہمیشہ حق پر ہوتی ہے تو وہ لازماً یہ کہ دے گا کہ یہ غلط ہے۔مثلاً ہم کہیں گے کہ عقید تا قرآن کہتا ہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ پھر وہ اسے لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ 2 قرار دیتا ہے۔لیکن یہ اکثریت جس کو تم زبر دست اور طاقتور سمجھتے ہو، یہ اکثریت جس کو تم عقلمند اور ترقی یافتہ خیال کرتے ہو وہ یہ عقیدہ نہیں رکھتی کہ خدا تعالیٰ ایک ہے۔اُس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی ہمسر۔بلکہ وہ خدا بیٹا اور روح القدس تین خداؤں پر ایمان رکھتی ہے۔کیا اکثریت کا یہ عقیدہ درست ہے؟ اس پر لازماً ایک سچا مسلمان یہ کہے