خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 72

$1950 72 خطبات محمود اسلام جبر کو جائز نہیں سمجھتا اگر ہم تھوڑی تعداد کے ذریعہ دنیا میں حکومت کو قائم کریں گے اور اسلامی نظام کو دنیا میں جاری کریں گے تو یہ ظلم ہوگا اور اسلام ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔اور اسلام کی بناوٹ ہی اس قسم کی ہے کہ وہ صحیح جمہوریت کو قائم کرتا ہے۔پس غلبہ حاصل کرنے کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے چھوٹے چھوٹے ملکوں میں اکثریت بنائی جائے اور غلبہ حاصل کیا جائے اور اُس کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے ملک پر غلبہ حاصل کیا جائے۔ہمارا پیج پھینکنے کا زمانہ بہت لمبا ہو گیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں بیچ پھینکنے میں نہایت شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ایک چھوٹی سی جماعت ہونے کے باوجود اُس کے افراد کا ہندوستان، چین ، ملایا، انڈونیشیا، آسٹریلیا کے قریب کے جزائر ، عراق، افغانستان، ایران شرق ،اردن، شام، فلسطین، لبنان، مصر، سعودی عرب، ایسے سینیا، ہالینڈ، سوئٹزر لینڈ ، سپین، فرانس، جرمنی، اٹلی، انگلینڈ ، ویسٹ افریقہ، ایسٹ افریقہ، یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ اور کئی اور ممالک میں جن کے نام بھی ہمیں معلوم بس ایک ایک، دو دو یا دس ہیں یا سو دو سو یا ہزار دو ہزار اور بعض جگہوں میں پچاس پچاس ہزار کی تعداد میں پایا جانا ایسی فتح ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ استحکام دین کا ثبوت ہم نہیں۔ہاں خدا تعالیٰ نے اسے استحکام دین کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے۔اور استحکام دین کا ذریعہ اور اس کا مستحکم ہونا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔جیسے کسی کے ہاں بچہ پیدا ہونے سے اُس کی نسل کے قیام کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔لیکن کیا اس سے اُس کی نسل قائم بھی ہو جاتی ہے؟ نہیں۔بلکہ پہلے وہ بچہ زندہ رہتا ہے اور اتنی لمبی زندگی پاتا ہے کہ وہ بالغ ہوتا ہے اور شادی کے قابل ہوتا ہے۔پھر اُس کے لئے ہم بیوی تلاش کی جاتی ہے۔دونوں میاں بیوی آپس میں ملتے ہیں اور اُن کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے۔تب ہم کہتے ہیں کہ فلاں کی نسل قائم ہو گئی۔اسی طرح ہماری جماعت کے افراد کا ہر ملک میں پھیل جانا استحکام دین کا ایک ذریعہ تو بن گیا لیکن ذریعہ نتائج پیدا نہیں کیا کرتا۔نتائج کے لئے ہمیں ایک اور قدم آگے اٹھانا ہو گا اور کسی نہ کسی ملک میں احمدیت کی اکثریت پیدا کرنی ہوگی۔ہمیں پتہ نہیں کہ پہلے یہ امر کہاں نصیب ہوگا۔لیکن ہر جماعت کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اس امر کے حاصل کرنے میں اول ثابت ہو۔دشمن جھوٹ بولتا ہے تو اُس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔وہ اگر جھوٹ بولتا ہے تو اپنا انجام ہی ب کرتا ہے۔اسی جگہ پر میرے متعلق جنہوں نے جھوٹ بولا وہ سمجھتے تھے کہ حکومت کے افسر