خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 73

$1950 73 خطبات محمود ہمارے ساتھ ہیں اس لئے ہمارا احمدی کیا بگاڑ سکتے ہیں۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سب سے بالا افسر ہے وہ جھوٹے کو خود سزا دے گا۔خدا تعالیٰ کی سزا سے کوئی حکومت جھوٹے کو نہیں بچا سکتی۔ان جھوٹے ڈائری نویسوں کی نظریں انسانوں پر پڑتی ہیں لیکن ہماری نظر خدا تعالیٰ پر ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اُنہوں نے جھوٹ بولا ہے اور انہیں اس جھوٹ کی یا تو اسی جہان میں سزا مل جائے گی اور انہیں افسروں کے ہاتھوں سے جن کی مدد کے بھروسے پر انہوں نے اتنا بڑا جھوٹ بولا اور میری طرف ایک بالکل غلط بات منسوب کر دی یا پھر اگلے جہان میں سزا ملے گی اور وہ سزا اس دنیا کی سزا سے بھی سخت ہے۔پس تم اس چیز کی پروا مت کرو کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔لوگ جو کچھ کہتے ہیں انہیں کہنے دو۔ہوگا وہی جو خدا تعالیٰ کرے گا۔مگر خدا تعالیٰ وہی کرے گا جس کے کرنے کی اُسے دعوت دی جائے گی۔اور اسے دعوت اس طرح دی جاتی ہے کہ انسان اُس کی محبت میں بڑھتا جاتا ہے اور دوسروں کو اُس کی ہے طرف دعوت بھی دیتا ہے۔“ خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: میں نماز جمعہ کے بعد نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔پیر منظور محمد صاحب جنہوں نے قاعدہ سیسرنا القرآن ایجاد کیا تھاوہ پرسوں فوت ہو گئے ہیں۔پیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابی تھے اور حضرت خلیفہ اسی الاول کے سالے تھے۔ہم جتنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہیں پیر صاحب اُن کے استاد تھے بلکہ ہم تینوں بھائیوں اور ہماری بہن مبار کہ بیگم کو قرآن کریم پڑھانے کے زمانہ میں ہی انہوں نے قاعدہ میسر نا القران ایجاد کیا تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک اور صحابی حکیم سید محمد قاسم میاں صاحب شاہ جہان پوری فوت ہو گئے ہیں۔قاسم صاحب اکثر قادیان آتے رہتے تھے اور دیر دیر تک قادیان رہا کرتے تھے۔حافظ مختار احمد صاحب شاہ جہان پوری کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھے۔ہندوستان کے گزشتہ فسادات میں جو تباہی مسلمانوں پر آئی اُس کا صدمہ ان پر گراں گزرا اور اسی صدمہ کی وجہ سے وہ نڈھال ہو گئے اور فوت ہو گئے۔ان کا جنازہ بھی میں نماز جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔“ 1 كنز العمال جلد 16 صفحہ 132 مطبوعہ حلب 1977 ء الفضل مورخہ 5 جولائی 1950 ء )