خطبات محمود (جلد 31) — Page 66
$1950 66 خطبات محمود جس طرح چکنے گھڑے پر سے پانی۔مثلاً یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کس طرح پاکستان میں ہمارے خلاف پرو پیگنڈا کیا جاتا ہے اور مجلسوں میں لوگوں کو اکسایا جاتا ہے کہ وہ ہمارے آدمیوں کو قتل کر دیں۔ہماری جائیدادوں کو کوٹ لیں۔اور دوسرے لوگوں کو یہ تحریک کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مکانات پر نشان لگا لیں تا قتل عام کے وقت انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔سارے پاکستان میں ایسا ہورہا ہے مگر کیا کسی نے اس پر نوٹس لیا ہے؟ کیا تم اتنے بیوقوف ہو کہ تم ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتے کہ کسی وقت بھی ایسا ہوسکتا ہے اور تمہیں ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔گورنمنٹ بھی افراد سے بنی ہے اور وہی لوگ جو ہمیں گالیاں دیتے ہیں اُن میں سے بعض گورنمنٹ کے رکن ہیں۔گورنمنٹ کا کام امن قائم کرنا ہے، گورنمنٹ کا کام اس قسم کے فتنوں کو دبانا ہے۔مگر وہ دیکھ رہی ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔پولیس کے آدمی جاتے ہیں اور وہ ان مجالس میں جا کر ڈائریاں لیتے ہیں لیکن وہ اس قسم کی باتوں کا ڈائریوں میں ذکر نہیں کرتے۔بعض جگہوں میں تو ڈائریاں لی ہی نہیں جاتیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُس جگہ کی مقامی پولیس دل سے اُن کے ساتھ ہے۔اور بعض جگہ پولیس نے ڈائریاں لی ہیں لیکن ضلع کے حکام نے حکومت تک اُن باتوں کو پہنچایا نہیں۔ایک جلسہ میں ایک شخص نے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو احمد یوں کو قتل کرے؟ ایک آدمی م نے اٹھ کر کہا میں حاضر ہوں۔پولیس نے ڈائری نہیں لکھی۔لیکن ایک مجسٹریٹ نے جو وہاں موجود تھا اپنی ڈائری میں یہ بات لکھ دی کہ میرے سامنے مقرر نے سوال کیا کہ تم میں سے کون کون فلاں فلاں احمدیوں کو قتل کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے؟ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اُس نے کہا میں اس کام کے لئے حاضر ہوں اور اپنا نام پیش کرتا ہوں۔جب پولیس کے افسروں سے پوچھا گیا کہ کیوں پولیس کی ڈائری میں یہ بات نہیں آئی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ آدمی پاگل تھا اس لئے اس واقعہ کو نہیں لکھا گیا۔یعنی جب شرارت کا پتہ لگ گیا تو یہ کہہ دیا گیا کہ وہ پاگل تھا۔حالانکہ اگر کھڑا ہونے والا پاگل تھا تو کیا تقریر کر کے اشتعال دلانے والا بھی پاگل تھا ؟ مگر ہم نے اپنے طور پر تحقیق کی ہے وہ شخص ہرگز پاگل نہیں ایک کام کاج کرنے والا آدمی ہے۔یہ واقعات تمہاری نظروں کے سامنے ہیں لیکن تم اس طرف توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ ان حالات میں جہاں بھی تم ہو تمہاری موجودہ حالت عارضی ہے۔اگر کسی کو پتہ لگ جائے کہ وہ موت کے گھاٹ پر