خطبات محمود (جلد 31) — Page 56
$1950 56 خطبات محمود کی ہے اور پچیس ہزار بھی اور اس پر خرچ ہو گا۔در حقیقت یہ عمارت بھی وہاں کی عظمت کے لحاظ سے چھوٹی ہے۔اُن پر اثر ڈالنے کے لئے تو ہیں پچیس لاکھ روپیہ کی عمارت چاہیے تھی لیکن موجودہ حالات میں صرف ڈیڑھ لاکھ پر ہی کفایت کی گئی ہے۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے بتایا ہے کہ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر یہ عمارت دو لاکھ روپیہ کی بھی مل جائے تو اسے ستی سمجھنا چاہیے لیکن ہمیں وہ ایک لاکھ میں ہزا رو پید می مل گئی ہے اور اس پر فرش کرنے اور قانونی طور پر بعض اصلاحیں مہیا کرنے پر پندرہ میں ہزار اور خرچ ہو چکا ہے اور کل خرچ ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب ہوگا۔واشنگٹن ایک اہم مقام ہے جہاں یہ مکان احمدیت کی ترقی اور اس کی اشاعت میں مفید ہو سکتا ہے۔چونکہ امریکہ کو باقی م ممالک پر ایک فوقیت حاصل ہے اگر اس میں احمدیت پھیل جائے تو اس مکان کے ذریعہ سے دوسرے ممالک پر بھی احمدیت کا اثر پڑے گا اور امریکہ کے احمدیوں کے ذریعہ سے دوسرے ممالک میں احمدیت کو نفوذ اور اثر حاصل ہوگا۔دوسری تحریک مسجد ہالینڈ کے لئے چندہ کی ہے۔کہتے ہیں عورتوں کے پاس پیسہ نہیں ہوتا لیکن شاید اُن کا دل بڑا ہوتا ہے۔مردوں نے ڈیڑھ لاکھ روپیہ اکٹھا کرنا ہے اور اس وقت تک صرف پونے کی بارہ ہزار کے وعدے ہوئے ہیں۔اور عورتوں نے ساٹھ ہزار روپیہ جمع کرنا ہے مگر اس وقت تک اُن کے پونے سترہ ہزار کے وعدے ہیں۔گویا عورتوں کے وعدے مردوں سے ڈیڑھ گنا ہیں۔میرے پاس جو چندہ کی رپورٹیں آتی ہیں اُن میں دس میں سے 9 جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں عورتوں کا چندہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔بہر حال ہالینڈ کو بھی یہ فوقیت حاصل ہے کہ انڈونیشیا آزاد ہو گیا ہے۔پس اب ان کی دونوں ملکوں کی آپس میں دوستی کے تعلقات بڑھتے جائیں گے اور ڈچ کامن ویلتھ میں انڈونیشیا کے شامل ہونے کی وجہ سے چونکہ مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہوگی اس لئے ڈچ، مسلمانوں کی طرف مائل ہم ہوں گے اور ممکن ہے کہ ہالینڈ اسلام کا مرکز بن جائے۔اس لئے وہاں کی مسجد بھی ایک اہم مسجد ہے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس چیز کا خیال جانے دیں کہ اُن پر کتنے بوجھ ہیں۔وہ ہمیشہ بوجھ کے نیچے رہیں گے۔دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں رہا جس پر کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔جس انسان پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا وہ خود بوجھ بنالیا کرتا ہے۔مثلاً امیر لوگ ہیں وہ یہی بوجھ بنا لیتے ہیں کہ کہیں ڈا کہ نہ پڑ جائے اور وہ لٹ نہ جائیں۔پس بوجھ سے مت ڈرو بلکہ یہ دیکھو کہ تمہاری