خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 54

$1950 54 خطبات محمود۔مقامی لوگوں کے ماتحت ہے اور اس میں اب بیداری کے سامان پیدا ہورہے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت چوٹی کے ملکوں میں شامل ہو جائے گا۔یہ پانچ ایسے ملک ہیں جو دوسرے ممالک پر اہمیت اور خصوصیت رکھتے ہیں۔ان میں سے چار ایسے ہیں جن میں نمایاں طور پر احمدیت کو خصوصیت حاصل ہے۔مثلاً پاکستان اور ہندوستان میں جن کو آجکل ایشیا میں سیاسی برتری حاصل ہے یہاں احمد بیت کے مراکز واقع ہیں۔انڈونیشیا ان ابتدائی ممالک میں سے ہے جہاں احمدیت پھیلی اور پھیل رہی ہے۔افریقہ میں اگر کوئی اسلامی جماعت کام کر رہی ہے یا کسی اسلامی جماعت کو نفوذ اور اثر حاصل ہے تو وہ احمد یہ جماعت ہے۔اور امریکہ میں بھی ہماری ہی جماعت کی تبلیغ ہو رہی ہے اور وہاں کے لوگوں کو احمدیت میں صرف داخل ہونے کی توفیق ہی نہیں ملی بلکہ انہیں قربانی کرنے کی بھی توفیق ملی ہے۔یوں تو اتنے بڑے ملک میں چار پانچ سو لوگوں کا احمدی ہو جانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔لیکن جنس دیکھی جاتی ہے تعداد کی کمی اور زیادتی کو نہیں دیکھا جاتا۔ہم نے یہ نہیں دیکھنا کہ کتنے لوگوں نے احمدیت قبول کی ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ کتنی قربانی کرنے کی والے ہیں۔مثلاً بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں بھیجا ہے۔مسٹر رشید احمد یہاں ہیں۔اور سینٹ لوئیس سے بھی مجھے خط آیا ہے کہ ایک نوجوان یہاں آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔اسی طرح سفید لوگوں میں سے بھی ایک عورت نے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ہمارے نزدیک تو سفید اور سیاہ سب برابر ہیں لیکن امریکہ میں ان میں ایک حد تک امتیاز اب تک برتا جاتا ہے۔میں نے اُس عورت کو فی الحال یہاں آنے سے روک دیا ہے۔یہ چار ملک ہو گئے۔عربی ممالک میں بے شک ہمیں اس قسم کی اہمیت حاصل نہیں جیسی ان ممالک میں حاصل ہے۔م لیکن پھر بھی ایک طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہو گئی ہے۔اور وہ یہ کہ فلسطین میں عین مرکز میں اگر مسلمان رہے ہیں تو وہ صرف احمدی ہیں۔بعض ہندوستانی اخبارات جن کو دشمنی کی وجہ سے ہمارا یہ کام قابلِ اعتراض نظر آیا ہے لکھتے ہیں کہ اگر انہیں فلسطین سے یہودیوں نے نہیں نکالا تو ضرور یہ یہود سے ملے ہوئے ہیں۔جیسے ہم جب قادیان میں جم کر مقابلہ کر رہے تھے تو سب لوگ ہماری تعریفیں کرتے م تھے لیکن اب کہتے ہیں کہ چونکہ احمدی ابھی تک قادیان میں بیٹھے ہیں انہیں ہندوستان سے ضرور کوئی