خطبات محمود (جلد 31) — Page 37
$1950 37 خطبات محمود سمجھ رہے تھے کہ ظاہری حالات میں ان تھوڑے سے لوگوں کا بیچ رہنا ناممکن معلوم ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کو مچان پر بٹھا کر صحابہ میدانِ جنگ میں چلے گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گر گئے اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا مانگی شروع کر دی اللَّهُمَّ يَا رَبِّ إِنْ أَهْلَكْتَ هَذِهِ الطَّائِفَةَ الصَّغِيرَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْاَرْضِ اَبَدًا - 5-اے میرے خدا! اے میرے رب ! میں اور تو کچھ نہیں کہتا میں تیری توجہ صرف اس طرف پھر انا چاہتا ہوں کہ اگر یہ چھوٹی سی جماعت ( کیونکہ دشمن کے غلبہ کی یہی وجہ تھی کہ وہ بہت زیادہ تھا اور یہ تھوڑے تھے جسے بظاہر چھوٹا ہونے کی وجہ سے مر جانا اور تباہ ہو جانا چاہیے ) آج اس میدان میں ماری گئی تو فَلَنُ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا اِس دنیا میں آئندہ م تیری عبادت کرنے والی جماعت اور کوئی باقی نہ رہے گی۔یہ واقعہ اپنے اندر بہت سے سبق رکھتا ہے لیکن ایک بہت بڑا سبق جو اس سے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی شہادت دیتے ہیں اور اُس وقت دیتے ہیں جبکہ کوئی غیر موجود نہیں جس کو خوش کرنا مقصود ہو۔اُس وقت دیتے ہیں جبکہ اپنی جماعت بھی موجود نہیں جس کے حوصلے بڑھانے مقصود ہوں۔صرف ابوبکر پاس تھے۔گویا نہ دشمن موجود ہے جس کا دل توڑنا مقصود ہے نہ دوست موجود ہے جس کا حوصلہ بڑھانا مقصود ہے۔صرف خدا اور اُس کا بندہ دونوں اُس جگہ پر ہیں۔اُس وقت وہ یہ شہادت دیتے ہیں کہ اے میرے رب ! اگر یہ جماعت مرگئی تو دنیا میں تیرا نام لیوا کوئی باقی نہیں رہے گا۔یا دوسرے لفظوں میں آپ نے یہ کہا کہ اے میرے رب! تیرا نام صرف اس جماعت کے ساتھ زندہ ہے۔یہ صحابہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شہادت تھی مگر کتنی عظیم الشان شہادت تھی۔یہ اس بات کی شہادت تھی کہ اگر یہ لوگ نہ رہے تو خدا تعالیٰ کا نام بھی دنیا میں نہیں رہے گا۔گویا اگر ایک لحاظ سے خدا زندہ رکھنے والا تھا مسلمانوں کو، خدا زندہ رکھنے والا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو ، تو دوسرے لفظوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ بھی زندہ رکھنے والے تھے خدا کو۔جس طرح خدا نہ ہوتا تو یہ دنیا بھی نہ ہوتی۔اسی طرح صحابہ کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھی بچی تھی کہ اگر وہ نہ ہوتے تو اس دنیا میں خدا بھی نہ ہوتا۔اگر یہ بات سچی تھی اور اس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ سچی تھی، قطع نظر اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے رسول تھے اور بچے تھے اور وہ کوئی خلاف واقعہ بات نہیں کہہ سکتے تھے۔ایک کا فر کو بھی یہ ماننا پڑے گا، ایک منکر اسلام کو بھی