خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 24

$1950 24 خطبات محمود میٹھی بھی میٹھی معلوم ہوگی اور پھیکی بھی میٹھی معلوم ہوگی۔اسی طرح جب جذبات کو ساتھ ملا دیا جاتا ہے تو سچ بھی جوش دلا دیتا ہے اور جھوٹ بھی جوش دلا دیتا ہے اور انصاف کے نام پر بھی لوگ ابھار دیئے جاتے ہیں اور ظلم کی مدد کے لئے بھی لوگ ابھار دیئے جاتے ہیں۔پس اصل طریق تو وہی ہے جو پہلے زمانوں میں رائج تھا کہ مختصر بات بیان کی جائے اور اس میں حقیقت کولوگوں کے سامنے واضح کر دیا جائے۔آخر کسی چیز کی سچائی کے کوئی ذاتی دلائل بھی تو ہوتے تو ہیں یہ تو ضروری نہیں کہ سچائی کو ہمیشہ انسانی جذبات کے ساتھ ملا کر ہم لوگوں کے سامنے لائیں۔مثلاً اسلام تو حید پیش کرتا ہے اور تو حید اپنی ذات میں ثابت بھی کی جاسکتی ہے اور اس کی تردید بھی کی جاسکتی ہے۔اگر تو حید کی تائید میں کہا جاتا ہے کہ بتوں میں کوئی طاقت نہیں اور وہ کسی انسان کو کوئی فائدہ یات نقصان نہیں پہنچا سکتے تو ایک انسان جو بت پرست ہو یہ بھی پیش کر سکتا ہے کہ بتوں میں فلاں فلاں خوبی موجود ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے ثبوت میں ہم یہ بات پیش کر سکتے ہیں کہ تمام قانونِ قدرت ایک خدا پر دلالت کرتا ہے جیسے قرآن کریم نے بھی یہ بات پیش کی ہے اور فرمایا ہے کہ کیا تمہیں دنیا میں کہیں بھی دو قانون نظر آتے ہیں؟ اگر دو قانون ہوتے تو تم سمجھ سکتے تھے کہ خدا ایک نہیں۔لیکن جب تمام عالم میں ایک ہی قانون نظر آتا ہے تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ ایک ہی خدا ہے دو نہیں۔یہ ایک دلیل ہے جسے توحید باری تعالیٰ کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے۔اب مقابل کا فریق اگر اُس کے لئے کی ممکن ہو تو یہ دلیل پیش کر سکتا ہے کہ دنیا میں ایک قانون نہیں بلکہ کسی جگہ کوئی قانون کام کرتا ہے اور کسی جگہ کوئی۔یا مثلاً جس طرح ایک خدا پرست انسان یہ کہہ دیتا ہے کہ میرا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے اور وہ مجھے سے باتیں کرتا ہے اور میری دعائیں سنتا ہے اسی طرح ایک بت پرست بھی حق رکھتا ہے کہ وہ اپنے میں سے کسی آدمی کو پیش کر دے اور کہے کہ اس سے فلاں بت نے باتیں کی ہیں یا اس کی دعائیں اس نے سنی ہیں۔یہ دلائل کا طریق ہے یعنی شرک بھی موجود ہے اور تو حید بھی موجود ہے۔شرک کی تائید کرنے کی والے نے بھی دلیل دے دی اور توحید کی تائید کرنے والے نے بھی دلیل دے دی۔اب سننے والے خود بخود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ دنیا کے ایک قانون سے ایک خدا ثابت ہوتا ہے یا دو خدا ثابت ہوتے ہیں یا وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایک قانون موجود نہیں بلکہ دو قانون موجود ہیں۔بہر حال دو باتوں سے ایک بات ضرور ہوگی یا تو وہ فیصلہ کرلیں گے کہ دنیا کا ایک قانون ثابت کرتا ہے کہ ایک خدا ہے اور یا یہ فیصلہ کر لیں