خطبات محمود (جلد 31) — Page 229
$1950 229 خطبات محمود مگر یہ نہیں ہوتا کہ تین کا پانچ ہو جائے یا پانچ کا تین ہو جائے۔اندازے کے بعد بڑی غلطی تبھی ہوگی جب تم بددیانتی اور سستی کرو گے۔یا تو تمہارا اندازہ غلط ہوگا اور یا کام غلط ہو گا۔اندازہ لگانے میں فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے نفس کو مجرم بنا سکتا ہے اور ثابت کر سکتا ہے کہ اس نے جو کہا تھایا تو وہ غلط تھا اور یا اس نے اپنے عمل کے ساتھ اسے پورا نہیں کیا۔یہی چیز اس وقت مغرب کی کامیابی اور مشرق کی ذلت کا باعث ہو رہی ہے۔یورپ کے لوگ کام شروع کرنے سے پہلے اس کا اسٹیمیٹ (Estimate) لگاتے ہیں۔پھر وہ دیکھتے ہیں کہ وہ سامان جن کے ساتھ کام پورا ہوگا موجود ہیں یا نہیں۔اس کے بعد وہ پوری دیانتداری کے ساتھ کام کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کا ناکام ہونا ان کی ذلت کا موجب ہے۔گویا ان کا خدا تعالیٰ کو نہ ماننا ان کے لئے فائدہ بخش ہو گیا ہے اور ہمارے لئے اس کا ماننا ذلت کا موجب ہو گیا ہے۔کیونکہ یورپین لوگ اگر کسی کام میں نا کام ہو جائیں تو وہ یہ نہیں کہتے کہ خدا تعالیٰ نے یوں کر دیا ہے وہ تو خدا تعالیٰ کو مانتے ہی نہیں۔لیکن ایک مسلمان خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے بے ایمانی کرتا ہے اور کہتا ہے میں نے تو پورا زور لگایا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا کر دیا ہے۔گو یاد نیا میں نور اور ظلمت کی جود و طاقتیں ہیں ان میں سے نور کی طاقت یہ مسلمان ہیں اور ظلمت کی طاقت خدا تعالیٰ ہے۔(نعوذ باللہ ) شیطان کا جو کام تھاوہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کا کام تھا وہ اپنی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ کتنی بڑی ہتک ہے۔اس کے بعد اگر کوئی شخص یہ امید رکھے کہ خدا تعالیٰ اس کی مدد کرے گا تو یہ اس کی حماقت ہوگی۔آخر وہ اس کی کیوں مدد کرے گا جب وہ تمام خرابیاں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔خدا تعالیٰ تو اُس شخص کی مدد کرتا ہے ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح کہتا ہے میں اپنی غلطیوں سے بیمار ہوتا ہوں اور خدا تعالیٰ مجھے شفا دیتا ہے۔اس کے کام کا اگر نتیجہ اچھا نکل آتا ہے تو وہ کہتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ خدا تعالیٰ نے یوں کر دیا۔اور جب نتیجہ خراب نکلتا ہے تو وہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھتا ہے کہ میں اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے نا کام رہا۔اور برکت اُسی کوملتی ہے جو عیب اپنی طرف اور خوبی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے میرے اس بندہ نے عیب اپنی طرف منسوب کیا ہے اور خوبی میری طرف منسوب کی ہے میں اس کا کام اچھا کر دوں تا خوبیاں میری طرف منسوب ہوں۔اور جب کوئی ایسا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کہتا ہے ہے کہ میں ایسا کیوں کروں۔کافر کے متعلق قرآن مجید میں آتا ہے کہ جب اُسے کوئی برکت ملتی ہے تو وہ