خطبات محمود (جلد 31) — Page 201
$1950 201 خطبات محمود دوستوں کو معلوم ہوگا کہ اس ہفتہ میں پھر ایک واقعہ راولپنڈی میں ہوا ہے اور ہمارا ایک احمدی شہید کر دیا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جس سے یہ واقعہ ہوا ہے اُس نے اقرار کیا ہے کہ اس کو میں نے احمدی سمجھ کر قتل کیا ہے کیونکہ علماء نے ہم کو یہی بتایا ہے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن اور واجب القتل ہیں۔جہاں تک ایسے واقعات کا سوال ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور اس پر تعجب کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔جونئی بات ہے اور جس پر تعجب کرنے کی وجہ ہے میں زیادہ تر اسی کی طرف جماعت کی توجہ کو پھر انا چا ہتاہوں۔اس 1950 ء میں مجھے خلافت کی خدمات بجالاتے ہوئے 37 سال ہو گئے ہیں۔ان 37 سال میں مختلف دور جماعتوں پر آئے ہیں اور مختلف ادوار میں میں نے جماعتوں کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنی لمبی تعلیم سے بھی جماعت نے فائدہ نہیں اٹھایا۔شاید ان کے عملوں کی کمزوریوں یا عقائد کی کمزوریوں کی وجہ سے ان کے لئے وہی دن می مقدر ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے امروز قومِ من نه شناسد مقام من روزے بگرید یاد گند وقت خوشترم 1 آج میری قوم میرے مقام کو نہیں پہچانتی لیکن ایک دن آئے گا کہ میرے مبارک دنوں کو رو رو کر یاد کرے گی۔جب ہم 1947ء میں قادیان سے آئے تو میں نے جماعت کو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی۔قولی طور پر تو صرف کچھ افراد اور کچھ جماعتوں نے وہ جواب دیا لیکن عملاً در حقیقت ساری ہی جماعت کا وہ جواب تھا۔میں نے اُس وقت کہا کہ یہ دن عارضی ہیں لوگ آج تمہاری تعریفیں کرتے ہیں حتی کہ اور تو اور ”زمیندار“ تک میں احمدی جماعت کی بہادری کی تعریفیں ہورہی ہیں۔لیکن ان عارضی تعریفوں پر مت جاؤ اور یاد رکھو کہ تم ان حالات میں سے گزرنے پر مجبور ہو کہ جن حالات میں سے پہلے نبیوں کی جماعتیں گزری ہیں۔تمہیں خون بہانے پڑیں گے تمہیں جانیں دینی پڑیں گی۔اور اگر تم ان تعریفوں پر خوش ہوتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم نے نہ اپنے آپ کو سمجھا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کو سمجھا۔اس پر قولاً تو کچھ افراد اور جماعتوں نے میرے ان اعلانوں اور تحریک پر مجھے لکھا اور زبانی بھی کہا کہ آجکل جماعت کی بہت تعریف ہو رہی ہے۔اس وقت تو تبلیغ بالکل نہیں کرنی چاہیے۔یہ دن تو اللہ تعالیٰ نے بڑے اچھے پیدا کئے ہیں آجکل تو لوگ ہماری بڑی تعریفیں کرتے ہیں اور تبلیغ بالکل