خطبات محمود (جلد 31) — Page 182
$1950 182 خطبات محمود م میں بھی شبہ نہیں کہ پھر وہ مزانہ آتا جو اس تبلیغ میں مجھے آیا۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہاں عورتوں کو اتنی تعلیم نہیں دی گئی کہ وہ اپنے خاوندوں اور رشتہ داروں کو بیدار رکھ سکیں اس لئے مرد اپنے کام کی طرف سے غافل ہیں اور تبلیغ کا پہلو بہت کمزور ہے۔ہماری جماعت کے جو عہدیدار ہیں اُن کو بھی چاہیے اور جو مقامی مبلغ ہیں ان کو بھی چاہیے کہ وہ لجنہ اماءاللہ کو تحریک کر کے عورتوں کی تعلیم اور ان کی تربیت کا انتظام کریں۔لجنہ میں بعض اچھی کارکن ہیں مگر مردوں کا تعاون نہ ہونے کی وجہ سے وہ پوری طرح کام نہیں کر سکتیں۔کئی دفعہ وہ شکایت بھی کرتی ہیں کہ مرد ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔یہ اتنا بڑا شہر ہے کہ پردہ دار عورتوں کے لئے یہ بڑا مشکل ہے کہ وہ خود کی اپنے طور پر ایسے انتظامات کر سکیں۔وہ محتاج ہیں اس بات کی کہ مردان کے جلسوں وغیرہ کی اطلاعیں دوسروں تک پہنچائیں۔وہ محتاج ہیں اس بات کی کہ مرد اپنی عورتوں کو جلسہ میں بھجوانے کے سلسلہ میں اُن کی مدد کریں۔وہ محتاج ہیں اس بات کی کہ مبلغ سلسلہ نہایت سیدھی سادی عبارت میں اور آسان سے آسان الفاظ میں دین کے مسائل انہیں سمجھائے۔مختصر نوٹ انہیں لکھوائے اور پھر اُن سے کہے کہ آئندہ تبلیغ کے راستہ میں آپ کو جو مشکلات پیش آئیں اُن کے متعلق مجھ سے مشورہ لے لیا کریں۔جہاں تک تعلیم کا سوال ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اتنی تعلیم بی تھی جتنی آجکل عورتوں میں پائی جاتی ہے مگر اس کے باوجود اُن میں کتنی بلند خیالی پائی جاتی تھی ، کتنی بلند حوصلگی پائی جاتی تھی، کتنی قربانی پائی جاتی تھی کتنی علم دین کے حاصل کرنے کی تڑپ پائی جاتی تھی ، کتنا عمل پایا جاتا تھا۔اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اُن کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جاتا اور اُن کے جذبات کو دبایا نہیں جاتا تھا۔عورتیں جاتیں اور کہتیں یا رسول اللہ! ہم نہیں ملت میں؟ یا رسول اللہ ! آپ روزانہ مردوں میں وعظ کرتے ہیں ہم چوری چھپے اُس سے بھی فائدہ اُٹھا لیتی ہیں مگر آپ ہمارے لئے ایک دن مقرر کر دیجئے جس میں آپ صرف ہمیں وعظ کیا کریں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بہت اچھا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ایسا مقرر کیا جس میں آپ صرف عورتوں کو وعظ ونصیحت فرمایا کرتے تھے۔2 اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں ایسا اخلاص پیدا ہو گیا کہ آجکل کے مردوں میں بھی وہ نہیں پایا جاتا اور دین سیکھنے کا جذبہ اُن میں ایسا ترقی کر گیا کہ اسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔عورت میں سب سے زبر دست مادہ اُس کی حیا ہوتی ہے مگر دین سے واقف ہونے کا احساس ان