خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 183

$1950 183 خطبات محمود میں ایسا تھا کہ وہ آتی تھیں اور ایسے نازک مسائل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی تھیں کہ آجکل ہماری بیوی بھی ہمارے سامنے اس طرح بات نہیں کر سکتی۔ایک دفعہ ایک عورت آئی اور اس نے کہايَا رَسُول اللہ ! فلاں مسئلہ کس طرح ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں موجود تھیں آپ نے وہ بات سنی تو آپ کو سخت غصہ آیا اور آپ نے اسے کہا بے حیا! تو مرے، تجھے شرم نہیں آئی !تو نے تو عورتوں کی ناک کاٹ دی ہے۔تو نے تو عورتوں کو ذلیل کر دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! اس نے عورتوں کو ذلیل نہیں کیا بلکہ تو نے یہ بات کہہ کر عورتوں کو ذلیل کیا ہے۔اگر یہ دین کا مسئلہ نہ پوچھتی تو اس کے لئے عمل ناممکن تھا۔3 غرض ان کے اندر اتنا ذوق تھا دین سیکھنے کا اور اتنا جوش تھا دینی معلومات حاصل کرنے کا کہ وہ اس کے لئے کسی چیز کی پروا نہیں کرتی تھیں۔واقعہ یہ ہے کہ وہ حدیث پڑھ کر ہمیں خود شرم آجاتی ہے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ میری بیوی بھی اگر مجھ سے کوئی ایسا مسئلہ پوچھنا چاہے تو نہ پوچھ سکے۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ آتی ہیں اور کہتی ہیں میں نے ایک مسئلہ پوچھنا ہے مگر نہیں پوچھتی یہ کہہ کر چلی جائیں گی۔پھر تھوڑی دیر کے بعد آئیں گی اور کہیں گی کہ شرم آتی ہے مگر ایک مسئلہ پوچھنا ہے اور پھر نہیں بتائیں گی کہ کیا پوچھنا ہے۔آخر کہنا پڑتا ہے کہ ارے بتاؤ تو سہی تم پوچھنا کیا چاہتی ہو؟ اس پر کہیں گی کہ نہیں نہیں شرم آتی ہے اور پھر ہزار نخرے کرنے کے بعد بات کریں گی۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے اندر علم حاصل کرنے کا ایسا جذبہ پیدا کر دیا تھا۔کہ انہیں ان باتوں کی کوئی پرواہی نہیں ہوتی تھی۔پھر اتنی دلیری اُن میں پائی جاتی تھی کہ اسے دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔میں تو جب بھی وہ حدیثیں پڑھتا ہوں بعد میں میں کئی منٹ تک سوچتا رہتا ہے ہوں کہ آیا وہ جنت کی ٹور میں تھیں یا عورتیں تھیں ؟ مجلس لگی ہوئی ہے اور جیسے ہم اس وقت بیٹھے ہوئے کی ہیں اسی طرح سب بیٹھے ہیں۔لاہور کی جماعت اتنی نہیں جتنی مدینہ کی مسلمان جماعت تھی۔وہ تو ہزاروں ہزار کی تعداد میں تھے اور سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ کناروں کے پر سے ایک عورت کھڑی ہوتی ہے اور وہ کہتی ہے یا رسول اللہ ! مجھے آپ کی باتیں اتنی پسند آئی ہیں کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے تو ہبہ کر دیا ہے مگر مجھے شادی کی ضرورت نہیں۔میں فلاں آدمی سے تمہارا نکاح کرتا ہوں اور وہ کہتی ہے حضور مجھے منظور ہے۔4 کیا آج ساری دنیا میں بھی کوئی ایسی مثال مل سکتی ہے؟ پھر یہ واقعہ ایک نہیں بلکہ