خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 160

$1950 160 خطبات محمود کی کوشش کریں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہاں کے بعض دوست واقع میں تبلیغ کرتے ہیں اور اُن کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جدو جہد کے نتیجہ میں ایک جماعت احمدیت کے قریب آ رہی ہے۔مگر ایک لمبے عرصہ تک ان کے قریب آنے کے دھوکا میں مبتلا رہنا بھی غلطی ہوتی ہے۔کچھ عرصہ کی تبلیغ کے بعد اُن کو صاف طور پر کہہ دینا چاہیے کہ اگر آپ لوگ احمدیت کو سمجھ چکے ہیں تو اب آپ کو اس میں ہے داخل ہو جانا چاہیے۔ورنہ ہمارے نزدیک آپ خود بھی دھوکا میں مبتلا ہیں اور ہمیں بھی دھوکا میں مبتلا رکھنا کی چاہتے ہیں۔ہمارے بعض دوست اتنے بھولے بھالے ہوتے ہیں کہ وہ سالہا سال اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ لوگ اُن کی تبلیغ سے احمدیت کے قریب آرہے ہیں۔حالانکہ قریب آنے والے کو کبھی تو منزل پر پہنچنا چاہیے۔اگر وہ نہیں پہنچتا تو اسکے معنے یہ ہیں کہ جسے قریب سمجھا جاتا تھا وہ محض نظر کا دھوکا تھا۔پس قریب آنے والا تم اُسی کو سمجھو جو واقع میں قریب آ جائے اور احمدیت کو قبول کر لے۔اگر وہ احمدیت کو تو قبول نہیں کرتا مگر کہتا یہ ہے کہ میں احمدیت کے قریب ہوں تو وہ خود بھی دھوکا میں مبتلا ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی دھوکا میں مبتلا کرتا ہے۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ شملہ گیا تو ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ حقیقۃ الوحی“ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض شرائط کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ جن لوگوں میں یہ شرائط پائی جائیں گی ہم انہیں مسلمان سمجھیں گے۔کیا آپ ان شرائط کو اب بھی درست سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ لکھا ہے ہم اُسے بالکل درست سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شرط یہ قرار دی ہے کہ ایسا شخص آپ کو اپنے تمام دعاوی میں سچا سمجھتا ہو۔دوسری شرط آپ نے دیکھی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تازہ وحی پر ایمان رکھتا ہو۔تیسری شرط آپ نے یہ رکھی ہے کہ اس کے اندر منافقت کا ایک شائبہ تک نہ پایا جاتا ہو۔اگر یہ تینوں شرطیں کسی شخص میں پائی جائیں تو ہم یقیناً سمجھیں گے کہ وہ مسلمان ہے۔میں نے اُس سے کہا کہ بتاؤ کیا کوئی غیر احمدی ہے جو ان شرائط کا پابند ہو؟ وہ کہنے لگا میرا ایک غیر احمدی دوست ہے اُس میں یہ سہ باتیں پائی جاتی ہیں۔میں نے کہا اُس سے جا کر پوچھو کہ کیا تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام دعاوی میں سچا سمجھتے ہو؟ اگر وہ کہے ہاں تو پھر اُس سے کہنا کہ کیا تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی تازہ وحی پر ایمان رکھتے ہو؟ اگر وہ کہے ایمان رکھتا ہوں تو پھر تیسرا سوال اُس سے یہ کرنا کہ