خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 109

$1950 109 خطبات محمود پڑھوں گا۔وہ طبیب آپ کی جرات سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے کہا آپ کہاں تک پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ فرماتے تھے میں اُن دنوں یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ طبیب کیا ہوتا ہے۔جس طرح آج کل بعض طب کی ڈگریاں ہوتی ہیں اور بعض سائنس کی ڈگریاں ہوتی ہیں اسی طرح پہلے زمانہ میں بعض مہندس ہوتے تھے، بعض طبیب ہوتے تھے اور بعض فلسفی ہوتے تھے۔میں نے افلاطون ، جالینوس اور بقراط وغیرہ کے نام کتابوں میں پڑھے ہوئے تھے۔میں نے کہا میں افلاطون کے برابر علم حاصل کرنا چاہتا ہوں حالانکہ وہ ایک فلسفی تھا۔وہ طبیب اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے اب ضرور تم کچھ نہ کچھ علم حاصل کر لو گے۔لیکن وہ تو ایک بچہ کی بات تھی جو سج گئی۔اب اگر کوئی اچھا بھلا آدمی ایسا کام کرے تو کیا یہ بات بج جائے گی ؟ ہماری جماعت یہ نہیں سمجھتی کہ بعض درمیانہ اور نچلے درجات بھی ہوتے ہیں۔وہ صرف یہی استدلال کرتے رہیں گے کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ امتِ محمدیہ میں امتی نبی ہو سکتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے یہ مقام عطا فرمایا ہے۔لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے بعض نچلے درجات بھی ہیں اور وہ ہمارے لئے ہیں۔وہ صرف اتنا ہی فائدہ اٹھا کر چھوڑ دیں گے کہ حضرت مرزا صاحب کی نبوت ثابت ہو گئی ہے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ اس کے نیچے صدیقیت ، شہادت اور صالحیت کے مقام بھی ہیں۔جو ہم میں سے ہر ایک کے لئے کھلے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان مقامات میں سے کوئی نہ کوئی مقام حاصل کرنے کی کوشش کریں۔غرض ایک عام مسلمان تو پہلی جماعت سے آگے نہیں بڑھتا اور احمدی صرف ایم اے پر ہی نظر ڈالتا ہے۔اور یا پھر اس بات پر خوش ہو جاتا ہے کہ فلاں ایم اے ہو گیا ہے۔حالانکہ جب تک وہ خود ہی فائدہ نہیں اٹھاتا محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مامور ہونے سے اسے ذاتی طور پر کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔دوسرے کے درجہ پر خوش ہو جانا تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ دو شخص کہیں بیٹھے ہوئے تھے تے کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو کہا کہ آج میں نے یہ عجیب ماجرا دیکھا کہ لوگ حلوے اور مٹھائیوں کے بڑے بڑے طبق اٹھائے لا رہے تھے۔وہ کہنے لگا پھر مجھے کیا۔اس پر اُس نے کہا وہ لوگ تمہارے گھر کی طرف ہی آرہے تھے۔اس نے کہا پھر تجھے کیا۔احمدیوں کی بھی یہی حالت ہے۔اگر کچھ مل گیا ہے تو وہ حضرت مرزا صاحب کو ملا ہے تمہارے لئے اس میں خوش ہونے کی کونسی بات ہے۔سوائے اس کے کہ تم کہو کہ اگر اوپر کا رستہ کھل گیا ہے تو نیچے کا رستہ بھی کھلا ہو گا ہم اس کے لئے کوشش کریں۔پھر