خطبات محمود (جلد 31) — Page 86
$1950 86 خطبات محمود کی بات مان لو گے تو اللہ تعالیٰ کے رستہ کے متعلق جتنی باتیں ہیں اکثریت اُن کے خلاف جارہی ہے۔اگر اکثریت خدا تعالیٰ کے رستہ سے متعلق سب باتوں کے خلاف جارہی ہے تو ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ باقی باتوں میں بھی وہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق ہے یا مخالف۔انسانی عقائد کا اعمال پر بھی اثر ہوتا ہے۔اگر کوئی خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے تو اس کے کھانے پینے ، جاگنے سونے اور پہننے میں بھی خدا تعالیٰ کے احکام کا دخل ہوگا۔اگر کوئی کلام الہی سے تعلق رکھتا ہے تو اسے اپنے کھانے پینے ، جاگنے سونے اور پہنے میں کچھ قیود لگانی پڑیں گی۔اگر کوئی اگلے جہان پر ایمان لاتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ ایسے اعمال بجالائے جن کا اگلے جہان پر اثر ہو۔بہر حال انسانی عقا ئد اعمال پر اثر ڈالتے ہیں۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ لوگ غلطی پر ہیں اور دوسری طرف ہم ان سے ڈرتے بھی ہیں۔اور پھر یہ سلسلہ ایسا ترقی کرتا ہے کہ اکثریت در اکثریت سامنے آنے لگتی ہے۔اگر عیسائیت کی نقل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ دنیا کا اکثر حصہ عیسائی ہے اور اُس کو خوش کرنا ضروری ہے تو پھر ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اُن کی بھی نقل کرو کیونکہ وہ مسلمانوں سے زیادہ ہیں۔پھر احمدیوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ دوسرے مسلمانوں کی بھی نقل کریں کیونکہ وہ ان سے زیادہ ہیں۔گویا ہر وقت دوسرے کو خوش کرنے کا سوال رہ جائے گا۔حالانکہ مومن اتنا نڈر ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کی پروا ہی نہیں کرتا۔آخر سیدھی بات ہے کہ جو کام ہم کریں گے اس میں یا نقص ہوگا یا وہ نقص سے مبرا ہو گا۔اگر اس میں کوئی نقص ہے تو اس کی کوئی دلیل ہونی چاہیے۔بلکہ پہلی بات تو یہی ہے کہ اگر کوئی نقص ہے تو اُسے ہم کریں گے کیوں۔اور اگر نقص نہیں تو ہمیں دوسرے سے ڈرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔اگر کوئی ہمیں یہ کہے گا کہ تم یہ کام کیوں نہیں کرتے ؟ تو ہم کہہ دیں گے ہم یہ کام کیوں کریں اس میں فلاں نقص ہے۔اور اگر کوئی کہے کہ تم یہ کام کیوں کرتے ہو؟ تو ہم کہیں گے کہ جب اس کام میں نقص کوئی نہیں تو ہم سے کریں گے۔کسی سے ڈرنے کی بہر حال ہمیں ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی آمد سے پہلے پر دہ اور قسم کا ہوتا تھا اور آپ کی بعثت کے بعد پردہ اور قسم کا ہو گیا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہیں سفر پر تشریف لے جا رہے تھے۔حضرت خلیفہ امسیح الاول اور مولوی عبد الکریم صاحب بھی ساتھ تھے۔امرتسر یا لا ہور کے ریلوے اسٹیشن پر آپ نے حضرت اماں جان کو ساتھ لیا اور ٹہلنا شروع کر دیا۔آپ ٹہلتے ٹہلتے پلیٹ فارم