خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 232

$1950 232 (29) خطبات محمود جب تک ساری دنیا میں ہمارے مراکز قائم نہ ہوں ہم جیت نہیں سکتے فرموده 24 نومبر 1950ء بمقام ربوہ ) تشهد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے گلے کی تکلیف میں بھی کمی ہونی شروع ہوگئی ہے اور وہ نزلہ جو کانوں اور گلے پر گرتا تھا اس میں بھی آگے سے کمی ہے۔آواز ابھی صاف تو نہیں ہوئی لیکن صاف ہونی شروع ہو گئی ہے۔اس وقت جیسا کہ میں اس بیماری میں برابر دیکھتا آیا ہوں کہ بیماری ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہوتی رہتی ہے جو نہی گلے کی تکلیف سے آرام آنا شروع ہوا منہ کے اندرورم پیدا ہو گیا، اس طرح ہونٹوں پر بھی ورم ہے اور خراش اور خشکی پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ہونٹوں پر بار بار زبان پھیر نے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور وہ کھچے کھچے محسوس ہوتے ہیں۔طبی طور پر اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ زہریلا مادہ جو سینہ میں پڑا تھا اور پھر گلے پر پڑنا شروع ہوا تھا اب منہ کی طرف آ رہا ہے۔ہماری جماعت کا قیام اسلام کے دوبارہ احیاء اور اس کو دنیا میں شوکت و عظمت کے ساتھ قائم کرنے کے لئے ہوا ہے۔گویا احمدیت کی شکل میں کوئی نیا مذہب قائم نہیں ہوا۔احمدیت نے کوئی نئی شریعت پیش نہیں کی۔احمدیت کوئی نیا مسلک لے کر نہیں آئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا احمد بیت لفظ بلفظ اُس کی نقل ہے اور حرف بحرف اُسی کی تصدیق ہے۔احمدیت کے آنے کی وجہ اور اللہ تعالیٰ کے ایک مامور کو کھڑا کرنے کی وجہ صرف اور صرف اتنی ہی تھی ، اتنی ہی ہے اور اتنی ہی