خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 231

$1950 231 خطبات محمود جب ہم تمام عیب اپنے اوپر لینے کے لئے تیار ہو جائیں گے تو خدا تعالیٰ بھی ہماری رعایت کرے گا۔اور اگر کوئی حادثہ بھی پیش آ گیا تو وہ اس سے ہمیں بچالے گا۔کیونکہ وہ سمجھے گا کہ یہ خواہ مخواہ الزام اپنے اوپر لینے کے لئے تیار ہو جائیں گے انہیں میں اس حادثہ سے بچالوں۔اور جب کوئی شخص خدا تعالی پر الزام نہیں ڈالتا، جب وہ خود فخر نہیں کرتا، جب وہ نیکی کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتا بلکہ ہر نیکی کوخدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اسے حوادث سے بچالیتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر نبی کی جماعت کو بھی حوادث پیش آتے ہیں لیکن ان کی نسبت دوسروں کے حوادث سے کم ہو جاتی ہے۔عام طور پر خدا تعالیٰ قانونِ قدرت زیادہ جاری کرتا ہے اور استثناء کم استعمال کرتا ہے۔لیکن بعض دفعہ استثناء کو بالکل ہی مٹا دیا جاتا ہے اور صرف قانونِ قدرت کو کی استعمال کیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لاغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِی میں اور میرے رسول ضرور غالب ہوں گے۔اب اس قاعدہ کے ساتھ کوئی استثناء نہیں۔سمندر ہوا بن کر اُڑ جائیں، پہاڑ اُڑ جائیں ، دریا خشک ہو جائیں، چاند اور سورج گر جائیں ، تمام کا تمام عالم تہ و بالا ہو جائے لیکن یہ قانون نہیں بدل سکتا کہ میں اور میرے رسول ضرور کامیاب ہوں گے۔اب تک کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جو اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوا ہو کسی نبی کو خدا تعالیٰ نے سو سال میں کامیابی دے دی ہو یا کسی کو اس سے کم یا زیادہ عرصہ میں۔لیکن کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جو کامیاب نہ ہوا ہو۔پس جو شخص تمام الزام اپنے اوپر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کو بری قرار دیتا ہے اُس کے لئے خدا تعالیٰ بعض ایسے قانون جاری کر دیتا ہے جن میں استثناء نہیں ہوتا۔اور جس قانون میں استثناء ہوتا ہے وہ بھی اس کے لئے کم از کم کر دیتا ہے۔یعنی دوسروں کے ساتھ حوادث زیادہ پیش آتے ہیں لیکن اس کے ساتھ حوادث کم پیش آتے ہیں۔کیونکہ وہ ہر خرابی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور ہر خوبی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔“ الفضل مورخہ 26 نومبر 1950ء) 18: الفرقان : 3 28 مور: آم کے درخت کا پھول۔بُور 38: الشعراء: 81