خطبات محمود (جلد 31) — Page 230
$1950 230 خطبات محمود کہتا ہے یہ میری محنت کا نتیجہ ہے لیکن مومن کے متعلق آتا ہے کہ وہ تمام برکات کو اللہ تعالی کی طرف سے مانتا ہے۔پس یہ تین چیزیں یاد رکھو۔اول اندازے کے بغیر کوئی کام نہ کیا کرو۔ہمارے ہاں اسٹیمیٹ (Estimate) اس کو کہتے ہیں کہ بجٹ بنے۔حالانکہ اسٹیمیٹ بجٹ کا نام نہیں۔بجٹ کے یہ معنے ہیں کہ ہم اس حد تک خرچ کر سکتے ہیں۔اور اسٹیمیٹ کے یہ معنے ہیں کہ اگر وہ کسی عمارت کا اسٹیمیٹ ہے تو کتنا سامان، کتنے مزدور ، کتنے راج اور کتنا وقت ہمیں درکار ہے۔دوسرے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اتنی اینٹیں مل سکتی ہیں؟ اگر مل سکتی ہیں تو کہاں سے؟ پھر اگر بنوانی ہیں تو کہاں سے بنوائی جائیں گی ؟ اور اس کے لئے کتنے مزدوروں کی ضرورت ہے؟ پھر ان کو اٹھا کر لے جانے کے لئے کون سے ذرائع ہیں ؟ پھر عمارت بنانے کے لئے کتنے معماروں کی ضرورت ہے؟ کتنے مزدوروں کی ضرورت ہے؟ اور پھر آیا تی اتنے راج اور مزدور موجود ہیں؟ پھر جتنی لکڑی درکار ہے وہ کہاں سے ملے گی اور کیسے ملے گی اور کتنے دنوں میں ملے گی؟ جیب اندازے صحیح ہو جائیں گے تو یقینی بات ہے کہ غلطی کرنے والا پکڑا جائے گا۔کیونکہ جب سامان کی تعیین ہو جائے گی اور جتنے وقت میں وہ کام ہونا ہے اس کی بھی تعیین ہو جائے گی تو ہر عقلمند یہی کہے گا کہ اب اگر نتیجہ غلط نکلا ہے تو یقینا تم نے غلط کام کیا ہے۔اگر واقع میں روپیہ موجود تھا اور جس سامان کی ضرورت تھی وہ موجود تھا تو بتاؤ وہ کام کیوں نہ ہوا۔اگر دس سیر پانی موجود ہو جس سے ہم نے مہمانوں کو شربت پلانا ہے اور شکر بھی کافی موجود ہو اور پھر شربت تیار نہ ہو تو تم کیا کہہ سکتے ہو کہ شربت کیوں تیار نہیں ہوا۔سیدھی بات ہے کہ تم نے سستی سے کام لیا ہے اور شربت تیار نہیں کیا۔غرض اندازے انسان کو جب وہ غفلت کرے مجرم بنا دیتے ہیں۔اگر اندازے صحیح ہوں گے تو انسان کوئی وجہ پیش نہیں کر سکتا کہ وہ کام کیوں نہیں ہوا۔بجٹ کے معنے تو تو فیق کے ہیں اسٹیمیٹ کے نہیں۔ہم نے دنیا فتح کرنی ہے۔اور اگر ہم نے دنیا فتح کرنی ہے تو ہمارے کاموں کے اندر علمیت پائی جانی اہیے۔ہمارے کاموں کے اندر افادیت پائی جانی چاہیے، ہمارے کاموں کے اندر ایثار پایا جانا چاہیے۔یعنی جو کام بھی ہم کریں وہ قَدَّرَهُ تَقْدِيرًا کے ماتحت کریں۔اور جو کام بھی ہم کریں وہ ہمارے لئے اور دوسروں کے لئے فائدہ مند ہوں۔پھر جو کام بھی ہم کریں جان مار کر کریں اور یہ سمجھ کر کریں کہ ان اندازوں سے بڑھنا نا جائز ہے۔اگر ہم ایسا کریں تو ہمارے کام میں برکت پڑ جائے گی۔کیونکہ