خطبات محمود (جلد 31) — Page 209
$1950 209 خطبات محمود جائے لیکن دوسری طرف تاجروں کو نقصان پہنچتا تھا۔اس لئے قیمت گرانے کے لئے گورنمنٹ نے کوئی نہ کوئی تجویز کرنی تھی اور ایسا کرنا مناسب تھا۔مگر یکدم 60 روپے فی گانٹھ سے 180 روپے فی گانٹھ ٹیکس کر دینا عقل کے خلاف ہے۔اس سے زمیندار اور تاجر دونوں کو نقصان پہنچے گا اور قیمت بہت گر جائے گی۔لیکن اگر انسان یہ سمجھے کہ جو ابتلاء آنا ہے سو آنا ہے اس کے نتیجہ میں وہ دینی خدمات سے کیوں رہ جائے تو اس کا قدم قربانی کے میدان میں پیچھے نہیں رہ سکتا۔اگر اب ایک شخص 40 روپے ماہوار کی بجائے 60 روپے ماہوار بھی کماتا ہے تو بہر حال یہ پہلے کی نسبت زیادہ آمد ہے۔انگریزی راج کے زمانہ میں اس قدر آمد پیدا کرنا مشکل تھا۔یہ قدرتی بات ہے کہ اگر ملک آزاد ہو جائے تو غیر ملکوں کے لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس ملک کو تنگ کیا تو وہ بھی بدلہ لے گا اور وہ ظالمانہ ٹوٹ سے ڑکے رہتے ہیں اور اس طرح ملک کی آمد نیں زیادہ ہو جاتی ہیں۔پس پاکستان بننے سے ملک کی آمد پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے لیکن چونکہ لوگ اس قسم کے مصائب کا مقابلہ کرنے کے عادی نہیں اس لئے باوجود آمد کے بڑھ جانے کے ادھر کوئی بھیا نک خبر نکلتی اور اُدھر چندہ کم ہو جاتا ہے اور سلسلہ کی آمد کو نقصان پہنچتا ہے۔تحریک جدید کو اس سال اتنا نقصان پہنچا ہے کہ مجھے یہ سوال اٹھانا پڑے گا کہ بعض مشن بند کر دیئے جائیں کیونکہ جماعت اگر مبلغین کو خرچ نہیں دے سکتی تو انہیں کیوں وہاں بُھو کا بٹھائے رکھا جائے۔انہیں واپس بلا لینا چاہیے تاوہ واپس آ کر کمائیں، کھائیں اور چندہ دیں۔پہلے کبھی تحریک جدید کی آمد میں اتنی کمی نہیں آئی۔دسویں سال تک تو تحریک جدید کے چندے سو فیصدی وصول ہوتے رہے۔بعد میں اگر چہ کچھ رقم وصولی سے رہ جاتی تھی مگر دوسری طرف وعدے بھی بڑھ جاتے تھے اور اس طرح دوسری آمدنوں کو ملا کر گزارہ ہوتا رہتا تھا لیکن اس سال دو لاکھ اسی ہزار روپے کے وعدوں میں سے ایک لاکھ چھتیس ہزار روپیہ کی رقم وصول ہوئی ہے۔اس رقم سے یہاں کے مقامی اخراجات بھی نہیں چل سکتے چہ جائیکہ بیرونی ممالک کے مبلغین کو اخراجات بھیجے جائیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کام کو وسیع کریں اور اس کا پہلا علاج یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو بدلے۔اگر لوگ محنت کرنے لگ جائیں اور دعاؤں پر زور دیں تو خدا تعالیٰ مشکلات کو دور کر دے گا۔آخر یہ کمی کیوں ہوئی ہے؟ یہ کمی اسی لئے ہوئی ہے کہ جماعت کے کچھ حصہ میں بشاشت ایمان نہیں رہی۔