خطبات محمود (جلد 31) — Page 154
$1950 154 خطبات محمود یورپین ممالک میں اس وقت ہمارے سات مشن کام کر رہے ہیں یعنی ہالینڈ میں ایک ، انگلینڈ میں دو، جرمنی میں ایک، سوئٹزر لینڈ میں ایک، فرانس میں ایک ، سپین میں ایک۔اب بجائے اس کے کہ یہ وسیع ممالک جو چالیس چالیس، پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ بلکہ اسی اسی ہزار مربع میل کے علاقہ میں پھیلے ہوئے ہیں ان میں ہم آہستہ آہستہ ایک ایک کی بجائے دو دو یا تین تین مشن کھول دیں ہمیں چاہیے کہ سارے یورپ کے سات مشنوں میں سے چار کو بند کر دیں۔ہمارے ایسٹ اور ویسٹ افریقہ میں اس وقت ساٹھ ستر مشن ہیں۔لیکن چندہ کی موجودہ حالت ایسی ہے کہ بجائے اس کے کہ ان ممالک میں ہم اپنے کام کی رفتار کو تیز کریں جیسا کہ ایسٹ اور ویسٹ افریقہ کے قدیمی باشندوں میں احمدیت خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ مقبول ہورہی ہے اور بجائے اس کے کہ ہم اپنے ساٹھ ستر مشنوں کو ڈیڑھ سو بنا دیں ہمیں چاہئے کہ ان میں سے چالیس پینتالیس مشن بند کر دیں۔پھر اس وقت ہمارے دو بیر ونجات کے مبلغ اپنی زندگی وقف کر کے آئے ہوئے ہیں اور سات آٹھ امریکن دوستوں کی ان کے علاوہ درخواستیں آئی ہوئی ہیں کہ ہمارے آدمی بھی دینی تعلیم کے حصول کے لئے وہاں آنا چاہتے ہیں۔اب بجائے اِس کے کہ اس تعداد کو بڑھا کر ہم آٹھ دس ملکوں کے نمائندوں کو بلائیں، ہمیں چاہئے کہ آئندہ یہ سلسلہ بالکل بند کر دیں۔گویا وہی ایک چیز جس کے متعلق دشمن بھی اقرار کرتا ہے کہ اس میں وہ جماعت احمدیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اسی کو ہم اپنے ہاتھ سے ضائع کر دیں۔جہاں ہماری دینداری کا سوال آتا ہے دشمن اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے تم کہتے ہو احمدی نیک ہوتے ہیں میرے ہمسایہ میں تو فلاں احمدی رہتا ہے جو جھوٹ بولتا ہے، فلاں احمدی رشوت لیتا ہے یا چی فلاں احمدی ظلم کرتا ہے۔اسی طرح وہ اور ہزاروں قسم کے اعتراض کرنے لگ جاتا ہے۔ہماری۔جماعت کی ملکی خدمات پر بھی اس کو بہت کچھ اعتراض ہوتے ہیں۔چاہے ہماری خدمات کتنی ہی بے غرضانہ ہوں دشمن ہم پر اعتراض کرنے سے نہیں رکتا۔مثلاً وہ یہی کہہ دے گا کہ یہ لوگ پاکستان کے مخالف اور غدار ہیں۔مگر جس چیز پر آکر ایک شدید ترین دشمن بھی پچپ کر جاتا ہے وہ بیرونی ممالک کی تبلیغ ہے۔اس مقام پر شدید ترین عنا در رکھنے والوں کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جماعت احمد یہ بہت بڑا کام کر رہی ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے فوجیوں کی ایک دعوت چائے کے موقع پر گفتگو شروع ہوئی تو تو یک شخص نے نامناسب اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔مگر بات کرتے ہوئے جب بیرونی ممالک کی