خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 7

$1950 7 خطبات محمود پس مبارک ہے وہ شخص جسے خدا تعالیٰ نے ایسے زمانہ میں پیدا کیا جس کی امید لگائے ہوئے بڑے بڑے صلحاء اور اولیاء اور بزرگ سینکڑوں سال سے انتظار کر رہے تھے۔اور مبارک ہے وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں پیدا کر کے اُسے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت کی بھی توفیق بخشی جس کی انتظار سینکڑوں سال سے دنیا کر رہی تھی۔اس کی اہمیت اس بات سے معلوم ہو سکتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہیں برف کے میدانوں میں گھٹوں کے بل بھی چل کر جانا پڑے تو اُس کے پاس پہنچو 2 اور اسے میرا سلام بھی پہنچاؤ۔3 اور پھر مبارک ہے وہ شخص جس کو حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت کے بعد خدا تعالیٰ نے کام کی توفیق بخشی۔اور ایسے کام کی توفیق بخشی کہ اُسے اُس غرض کو جس کے لئے وہ دنیا میں آیا تھا پورا کرنے کی کے لئے معتد بہ حصہ ملا۔اور ایسا حصہ ملا کہ خدا تعالیٰ کے دفتر میں وہ اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ میں لکھا گیا۔پس نو جوانوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں زریں موقع عطا فرمایا ہے جو صدیوں بلکہ میں کہتا ہوں ہزاروں سال میں بھی میسر نہیں آتا۔دنیا نے چھ ہزار سال تک انتظار کیا اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔پھر 13 صدیاں مسلمانوں نے بھی انتظار میں گزاریں پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب، بروز اور خلیفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا ہوئے۔اس زمانہ کو شیطان کی آخری جنگ کہا گیا ہے۔گویا اس سے زیادہ نازک وقت دین پر کبھی نہیں آیا اور آئندہ کبھی نہیں آئے گا۔سو اس موقع پر جس کو کام کرنے کی توفیق ملے وہ نہایت ہی بابرکت انسان ہے۔پس اپنی اہمیت کو سمجھو، وقت کی نزاکت کو محسوس کرو اور خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر کرو جو اس نے تمہارے ہاتھوں کی پہنچ میں رکھی ہے۔صرف تمہیں اپنا ہاتھ لمبا کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے وہ صلحاء اور بزرگ بھی ترستے رہے جن کو یاد کر کے تمہاری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور تم اُن پر رشک کرتے ہو۔جس طرح اُن کا تقویٰ اور اُن کا زہد تمہارے لئے قابلِ رشک ہے اُسی طرح تمہارا اس زمانہ میں کام کرنا اُن کے لئے بھی قابلِ رشک ہے۔حضرت شبلی، حضرت جنید بغدادیؒ ، حضرت شہاب الدین سہروردی ، خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت محی الدین ابن عربی کے نام جب تم پڑھتے ہو تو تمہیں اس بات پر رشک آتا ہے کہ اُنہوں نے کس کس رنگ میں خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے کوشش کی اور کیا کیا رستے برکتوں کے خدا تعالیٰ نے اُن کے لئے کھولے۔اور تم رشک کرنے میں