خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 138

$1950 138 خطبات محمود دیا گئے۔چار پانچ دن کے بعد پھر انہوں نے کوئی اور واقعہ اسی طرح مبالغہ کے ساتھ بیان کرنا شروع کیا مگر بدقسمتی سے اُس واقعہ کے وقت بھی ہمارے احمدی دوست موجود تھے اور وہ جانتے تھے کہ یہ ایک معمولی سا واقعہ تھا اس میں کوئی معیوب بات نہ تھی۔چنانچہ جب وہ واقعہ کے نصف تک پہنچے تو وہ کہتے ہ ہیں میں نے اس خیال سے کہ معلوم ہوتا ہے اصل واقعہ انہیں یاد نہیں رہا انہیں کہا کہ آپ یہ واقعہ بھول گئے ہیں۔میں بھی اُس وقت آپ کے ساتھ تھا اور میں جانتا ہوں کہ یہ واقعہ اس طرح نہیں ہوا جس طرح آپ بیان کر رہے ہیں بلکہ اس اس طرح ہوا ہے۔اس پر وہ پھر کہنے لگے ہاں ہاں مجھے یاد آ گیا۔دراصل یہ میری غلطی ہے مجھے اصل واقعہ یاد نہیں رہا تھا۔اس طرح وہ بات کو پھر دبا گئے۔لیکن جب ہم کھانے کے کمرہ سے باہر نکل کر واپس جا رہے تھے تو راستہ میں انہوں نے میری گردن پکڑ لی اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے ارے فلانے ! کیا جھوٹ بولنا تیرا اور تیرے باپ کا حق ہے میر احق نہیں۔میں نے کہا معاف کیجئے میں سمجھتا تھا کہ آپ بُھول گئے ہیں۔اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں تو میں آپ کو کبھی نہ روکتا۔اب وہ بے چارہ تو جھوٹ بول کر مجلس کو خوش کرنا چاہتا تھا مگر ہمارے احمدی دوست نے اس کا لطیفہ ہی خراب کر دیا اور جو حقیقت تھی وہ واضح کر دی۔تو جھوٹ اپنے دوست سے چُھپ نہیں سکتا۔اگر دوسرے کے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کی بجائے اُس کو ظاہر کیا جائے اور جھوٹ بولنے والے کے خلاف نفرت اور حقارت کا اظہار کیا جائے تو اس نقص کی خود بخود اصلاح ہو جائے مگر افسوس ہے کہ جھوٹ کی برائی کو سمجھا نہیں جاتا۔اور بعض دفعہ پارٹی بازی کے شوق میں ایسے لوگوں کو پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بنادیا جاتا ہے جو سچائی کے پورے پابند نہیں ہوتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ماتحتوں میں بھی جھوٹ بولنے کی عادت آ جاتی ہے۔لارڈ کرزن نے اپنے زمانہ میں ایک دفعہ کہیں تقریر کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ہندوستانی بڑا جھوٹا ہوتا ہے۔اب یہ بات واقع میں درست تھی۔عدالت میں ایک انگریز بھی جاتا ہے اور ہندوستانی بھی کی اور دونوں اپنے مقصد کے حصول کے لئے جھوٹ بولتے ہیں مگر ہندوستانی جھوٹ بولے گا تو پیٹ بھر کر بولے گا اور انگریز بولے گا تو نہایت بچ بچ کر بولے گا۔بہر حال جب لارڈ کرزن نے یہ بات کہی تو ہندوستانیوں کو طبعاً بہت بُری لگی۔چنانچہ اُس وقت ایک شاعر نے اس پر ایک رباعی کہی جس کا آخری ะ مصرعہ یہ تھا کہ