خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 137

$1950 137 خطبات محمود الگ کر دینا چاہیے۔اور اُس وقت تک اُس کا ساتھ نہیں دینا چاہیے جب تک وہ تو بہ نہ کرے اور اپنی حالت کی اصلاح نہ کرے۔دوسرے شخص کو جھوٹ پر دلیری اسی لئے پیدا ہوتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے میرا دوست میرا ساتھ دے گا۔لیکن اگر اسے معلوم ہو کہ میں نے جھوٹ بولا تو میرا دوست مجھ سے الگ ہو جائے گا یا وہ مجھے ملامت کرے گا تو وہ یقیناً جھوٹ سے بچنے کی کوشش کرے گا۔ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست تھے جو شہید ہو چکے ہیں اُن کی شہادت بھی محض احمدیت کی وجہ سے ہوئی تھی۔ہندوستان کے ایک بڑے آدمی جو اُن کے ہم جماعت اور ہم ملک بھی تھے ان کو گورنمنٹ نے کسی اہم کام کے لئے اپنا نمائندہ بنا کر یورپ بھجوایا۔چونکہ ان کے ہمارے احمدی دوست کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ اگر تم نے یورپ کی مفت سیر کرنی ہو تو میرے ساتھ چل پڑو۔میں تمہیں اپنا سیکرٹری بنالیتا ہوں۔ہمارے احمدی دوست نے اُن کی بات مان لی اور وہ انہیں اپنا سیکرٹری بنا کر ساتھ لے گئے۔انگریزوں میں یہ رواج ہے کہ رات کا کھانا کھانے کے بعد وہ بڑی بے تکلفی کے ساتھ دیر تک باتیں کرتے رہتے ہیں اور یوں بھی وہ کھانا کھاتے وقت باتیں زیادہ کرتے ہیں۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کھانا اچھا ہضم ہوتا ہے۔رات کے کھانے کے بعد وہ عموماً ایک دوسرے کو ایسے قصے سناتے ہیں جو عجوبہ روزگار سمجھے جائیں۔جہاز میں جب دو چار دن گزر گئے اور یہ روز انگریزوں کے قصے سنتے رہے تو اُن کے جو ہندوستانی لیڈر تھے انہیں بھی جوش آ گیا اور ایک می رات انہوں نے بھی اپنا ایک واقعہ سنانا شروع کر دیا۔وہ کہتے ہیں کہ اتفاقاً اس واقعہ کے وقت میں بھی موجود تھا اور میں جانتا تھا کہ وہ ایک معمولی سا واقعہ ہے مگر انہوں نے اسے ایسے رنگ میں بیان کرنا شروع کیا جس میں بہت زیادہ مبالغہ پایا جاتا تھا۔پہلے تو میں سمجھا کہ شاید یہ کوئی اور واقعہ بیان کر رہے ہیں مگر جب وہ آدھا سنا چکے تو مجھے یقین آ گیا کہ یہ تو وہی واقعہ ہے۔مگر یہ اسے اور رنگ میں بیان کرتی رہے ہیں۔چنانچہ میں نے انہیں کہا کہ صاحب! معلوم ہوتا ہے یہ واقعہ آپ کو بھول گیا ہے اُس وقت میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔یہ واقعہ اس طرح نہیں ہوا جس طرح آپ ذکر فرمارہے ہیں بلکہ اس طرح ہوا ہے اور وہ واقعہ بہت معمولی سا تھا۔مگر ان کی گفتگو کی غرض تو یہ تھی کہ وہ کوئی عجوبہ بیان کریں اور اس کے لئے وہ خوب رنگ آمیزی کے ساتھ بات کر رہے تھے۔جب ہمارے احمدی دوست نے انہیں ٹوکا اور بتایا کہ واقعہ تو یوں ہوا تھا تو وہ کہنے لگے اوہو! مجھے یاد نہیں رہا تھا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے اور وہ بات کو ی