خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 136

$1950 136 خطبات محمود کہ یا تو ہم یہ کہیں کہ ہمیں جماعت کی تعداد کا صحیح علم نہیں اور یا وہ تعداد بتائیں جو ہمارے اندازہ کے قریب قریب ہو۔میں نے بتایا ہے کہ میرا اندازہ دولاکھ کے قریب ہے۔اب اگر یہ اندازہ درست ہے اور جماعت کی تعدا د دولا کھ ہی ہے تو اس تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے دل میں جو درد پیدا ہو گا وہ پچیس لاکھ کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے پیدا نہیں ہو سکتا۔یہ تعداد تو اتنی بڑی ہے کہ اگر ہماری جماعت کی واقع میں پچیس لاکھ تک پہنچ جائے تو بہت بڑا انقلاب پیدا کر دے۔پچیس لاکھ کے یہ معنی ہیں کہ ہماری ہے تعداد سکھوں سے نصف ہو جائے۔مگر چونکہ ہمارے اندران سے بہت زیادہ تنظیم پائی جاتی ہے اس لئے از ما اگر ہماری جماعت پچیس لاکھ تک پہنچ جائے تو ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ کچھ کرنے کے قابل ہوتی عم جائیں گے جو پچاس لاکھ ہونے کے باوجود سکھ نہیں کر سکے۔مگر اب چونکہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ہماری تعداد پچیس لاکھ ہے اس لئے بجائے کوئی فائدہ ہونے کے اور نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔ایک یہ کہ کہنے والا تبلیغ چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ پچیس لاکھ آدمی تبلیغ کر رہا ہے اگر میں نے تبلیغ نہ کی تو کیا ہوا۔دوسرا نقص یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ ایسا شخص چندہ میں سُست ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ پچیس لاکھ آدمی چندہ دے رہا ہے اگر میں نے چندہ نہ دیا تو کیا ہوا۔اسی طرح اور کئی قسم کے نقائص پیدا ہو جاتے ہیں جن سے اُس کا ایمان بھی کمزور ہوتا ہے اور اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔پس آپ لوگوں کو ہمیشہ اپنی باتوں میں سچائی اختیار کرنی چاہیے اور جھوٹ کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ جھوٹ ایک ایسی چیز ہے اگر میرا کوئی عزیز دوست اس کا ارتکاب کرتا رہا ہو تو ناممکن ہے کہ مجھے اس کا علم نہ ہو کیونکہ جھوٹ بولنے والا کسی ایک بات میں جھوٹ نہیں بولتا بلکہ کئی باتوں میں جھوٹ بولتا ہے اور کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں جن سے انسان یہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ اسے جھوٹ کی عادت ہے۔اگر تمام لوگ یہ عہد کر لیں کہ انہیں جب بھی کسی دوست یا عزیز کا جھوٹ معلوم ہوگا تو وہ اسے فورا چھوڑ دیں گے اور ہماری جماعت کے تمام دوست اس احساس کو ہمیشہ زندہ رکھیں اور جھوٹ سے ایسی نفرت اختیار کریں کہ انہیں اپنے کسی گہرے دوست کی محبت کی اس کے مقابلہ میں ذرا بھی پروا نہ ہو۔تو میں سمجھتا ہوں کہ آہستہ آہستہ پانچ سات سال کے اندراندر یہ عیب ہماری جماعت میں سے مٹ سکتا ہے۔جس طرح ایک کوڑھی کو تندرستوں سے الگ کر دیا جاتا ہے اس طرح جھوٹے شخص کو فورا