خطبات محمود (جلد 31) — Page 133
$1950 133 خطبات محمود پولیس کا محاصرہ تھا، سیڑھیوں میں بھی پولیس بیٹھی ہوئی تھی اور لیکھرام گنڈا لگا کر کمرہ کے اندر چھپا ہوا تھا اور اس کے قتل کا کوئی امکان نہیں تھا یکدم چھت پھٹی اور ایک فرشتہ تلوار لے کر اترا اور اُس نے لیکھرام کو م قتل کر دیا۔یہ قصہ انہوں نے الف لیلہ کے انداز میں اس طرح سجا سجا کر بیان کیا کہ جب وہ اس کے آخری حصہ پر پہنچے کہ باوجود اتنے سخت انتظامات کے چھت پھٹی اور ایک فرشتہ تلوار لے کر اترا اور اس نے لیکھرام کا پیٹ چاک کردیا تو یکدم وہ عرب چونک اٹھا اور اس واقعہ کی ہیبت سے متاثر ہو کر اس کے منہ پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔اور وہ اس طرح سہم گیا کہ گویا اگر اس نے انکار کیا تو فرشتہ ابھی اتر کر اس کے پیٹ میں بھی خنجر مار دے گا۔میں نے جب یہ باتیں سنیں تو انہیں کہا عبدالحی تبلیغ میں بھی تم جھوٹ بولتے ہو! ! وہ کہنے لگے کیا پیشگوئی نہیں تھی؟ میں نے کہا پیشگوئی تو تھی مگر سوال یہ ہے کہ خدا نے کہا تھا یہ شخص چھ سال میں مارا جائے گا اور تم کہتے ہو انہوں نے ایک خاص سال اور خاص مہینہ اور خاص دن مقرر کر دیا تھا۔پھر جو واقعات ہیں وہ تو یہ ہیں کہ ایک شخص لیکھرام کے پاس گیا، دروازے کھلے تھے، اس کے بیوی بچے بھی موجود تھے کہ اس نے خنجر مارا اور غائب ہو گیا۔بے شک فرشتہ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا مگر فرشتے کے یہ معنے تھے کہ جیسے فرشتہ پکڑا نہیں جاتا اُسی طرح وہ پکڑا نہیں جائے گا۔پھر میں نے کہا کہ تم کہتے ہو کہ چھت پھٹی اور فرشتہ اُترا حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔اسی طرح تم کہتے ہو کہ باہر پولیس کا پہرہ تھا یہ بھی جھوٹ ہے۔وہ کہنے لگا جب انہیں پتہ لگا ہو گا کہ اس طرح پیشگوئی کی گئی ہے تو کیا تی انہوں نے پہرے مقرر نہیں کئے ہوں گے؟ میں نے کہا ” ہوں گے“ کا کیا سوال ہے دیکھنا تو یہ ہے کہ ہوا کیا تھا۔غرض تبلیغ میں بھی بعض دفعہ جھوٹ بولا جاتا ہے۔اسی طرح جماعت کی تعداد بتانی ہو تو کہیں گے ہماری تعداد دس لاکھ ہے یا بارہ لاکھ ہے یا پندرہ لاکھ ہے۔جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں تو میں کہا کرتا ہوں کہ مجھے تو پتہ نہیں شاید انہوں نے مردم شماری کی کروائی ہوئی ہو۔حالانکہ دس کیا اور دس لاکھ کیا۔اصل چیز جو دیکھنے والی ہے وہ تو یہ ہے کہ آیا جماعت میں سچائی پائی جاتی ہے یا نہیں؟ یا احمدیت کچی تعلیم پیش کر رہی ہے یا جھوٹی ؟ اگر ہم دس آدمی ہوں اور خدا تعالیٰ ہماری تائید کر رہا ہو تو یہی ہماری صداقت کی دلیل ہے۔دس لاکھ ہونے سے کونسی زائد بات کی ثابت ہو سکتی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم تھوڑے ہوں اور پھر بھی سارے جہان میں تبلیغ اسلام کر رہے ہوں تو یہ ہماری صداقت کی ایک اور بھی واضح دلیل بن جائے گی۔فرض کرو ہم ہیں ہزار ہیں