خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 132

$1950 132 خطبات محمود کسی نے دس تھپڑ مارے ہوں تو یہ بارہ ضرور کہیں گے۔حالانکہ کسی کو ظالم ثابت کرنے کے لئے دس یا بار تھپڑوں کا کیا ذکر ہے اگر کسی نے ناواجب طور پر ایک تھپڑ بھی مارا ہو تو اس کا ظلم ثابت ہے۔مگر اتنی بات سے ان کی تسلی نہیں ہوتی اور وہ مبالغہ سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔یا کہیں گے کہ فلاں نے تو مار مار کر ادھ موا کر دیا ہے اور اس طرح بڑھا کر بات کرنے کی کوشش کریں گے۔مجھے یاد ہے جب میں حج کے لئے گیا تو چونکہ اُس وقت میری عمر چھوٹی تھی حضرت خلیفہ اول نے یہ پسند فرمایا کہ عبدالحی صاحب عرب بھی میرے ساتھ ہوں۔آپ کا منشاء تھا کہ میں مصر میں رہ کر عربی علوم کی تکمیل کروں۔مگر یہ ارادہ پورا نہ ہو سکا۔عبدالحی صاحب عرب عراق کے رہنے والے تھے اور وہ شیعوں میں سے احمدی ہوئے تھے اور شیعوں میں مبالغہ سُنیوں سے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ہم جدہ میں سیٹھ ابوبکر صاحب کے ہاں رہا کرتے تھے۔وہاں ایک دن کوئی عرب تاجر ملنے کے لئے آیا اور عبدالحی صاحب عرب نے اسے تبلیغ شروع کی۔ایک بڑا سا ہال کمرہ تھا جس کے ایک طاقچہ میں میں بیٹھا ہوا تھا اور دوسرے طاقچہ میں عبدالحی صاحب عرب ( وہاں دیوار میں بڑے بڑے محراب بنے ہوئے ہوتے ہیں جن میں لوگ بیٹھتے ہیں ) اسے تبلیغ کر رہے تھے۔میں کسی کتاب کے پڑھنے میں مشغول تھا کہ یکدم م میں نے محسوس کیا کہ جیسے کسی اہم معاملہ پر انسان کو جوش آجاتا ہے اور اس کی روح میں ایک اشتعال کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی قسم کی کیفیت عبدالحی صاحب عرب کی ہے اور میں نے دیکھا کہ وہ عرب تاجر جسے وہ تبلیغ کر رہے تھے سخت سہما ہوا اُن کے سامنے بیٹھا ہے اور اُس کے منہ پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں۔بات یہ ہوئی کہ عبدالحی صاحب عرب اسے لیکھرام کا واقعہ سنا رہے تھے اور سُنا اس طرح رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیکھرام کے قتل کے لئے ایک خاص سال اور تاریخ مقرر کر دی تھی اور بتا دیا تھا کہ فلاں سال فلاں مہینہ میں فلاں تاریخ کو ٹھیک اتنے بجے یہ شخص مارا جائے گا اور م دنیا کی کوئی طاقت اسے بچا نہیں سکے گی۔چونکہ تمام آریوں کو اس پیشگوئی کا علم تھا اس لئے جب وہ دن ی آیا تو لیکھرام کے مکان کے ارد گرد پولیس نے گھیرا ڈال لیا اور گھر کے اندر لوگوں کی آمد ورفت بند کر دی۔بلکہ سیڑھیوں میں بھی پولیس کھڑی کر دی گئی اور لیکھر ام سے انہوں نے کہہ دیا کہ تم کمرہ میں زنجیر لگا کر بیٹھ رہو تا کہ کوئی شخص تم پر حملہ نہ کر سکے۔لیکن جب وہ وقت آیا جس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خبر دی تھی اور جب آریہ خوش تھے کہ اب یہ پیشگوئی جھوٹی نکلے گی ، جب مکان کے چاروں طرف