خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 98

$1950 98 خطبات محمود اتنا بڑا بادشاہ جس کی آدھی دنیا پر حکومت تھی عرب پر حملہ آور ہونے لگا تھا۔اگر یہ جنت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوملی تو معلوم ہوا کہ جنت میں کانٹے بھی ضرور ہیں۔اور اگر یہ جنت نہیں اور تم یہ مانتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنت نہیں ملی تو یہ عجیب تمسخر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو دنیا میں جنت نہ ملے اور مرید دنیا میں جنت ملنے کے امیدوار ہوں۔لیکن اگر تم مانتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا میں جنت ملی تو لازماً آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جنت وہ بھی ہے جس میں دکھ، تکالیف اور شدائد پائے جائیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ جب تم قومی طور پر مرنے لگتے ہو تو خدا تعالیٰ تمہیں اس موت سے بچالیتا ہے۔کہتے ہیں کوئی احمق تھا۔اُسے خیال آیا کہ وہ کسی قبر میں چھپ کر دیکھے کہ منکر نکیر کس طرح آتے ہیں۔وہ قبرستان میں گیا۔وہاں ایک پرانی قبر تھی۔وہ اس میں چُھپ کر بیٹھ گیا اور سمجھا کہ منکر نکیر ظاہری شکل میں آئیں گے اور اسے دکھائی دیں گے۔اتنے میں ایک قافلہ گزرا۔خچروں پر شیشے کے برتن لدے ہوئے تھے۔نیچرمیں اس قبر کے پاس سے گزریں جس میں وہ احمق چھپا بیٹھا تھا۔چھن چھن کی جو آواز آئی تو اس نے خیال کیا کہ شاید منکر نکیر آگئے ہیں۔اُس نے گردن باہر نکالی تا منکر نکیر کو ظاہری مشکل میں دیکھ لے۔اُس کا گردن نکالنا تھا کہ خچریں پر کیں اور برتن نیچے گر کر ٹوٹ گئے۔تاجر کے نوکر ئے اور انہوں نے اُسے خوب مارا۔صبح کو جب گھر آیا تو بیوی نے دریافت کیا کہ وہ رات کو کہاں گیا تھ ہوا تھا ؟ اس نے کہا مجھے یہ خیال آیا کہ میں منکر نکیر کو ظاہر کی شکل میں دیکھوں اور یہ معلوم کروں کہ اگلے جہان میں کیا ہوتا ہے اس لئے رات کو میں قبرستان میں گیا تھا۔وہاں میں نے دیکھا کہ بالکل آرام ہے صرف اتنی احتیاط رکھنی چاہیے کہ فیچر میں بدک نہ جائیں۔جس طرح اس بیوقوف نے اگلے جہان کے متعلق خیال کر لیا تھا وہی حال تمہارا ہے۔تم سمجھتے ہو کہ جنت کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں کوئی دکھ نہ پہنچے، کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ آئے ہمیں کوئی قربانی نہ کرنی پڑے، بالکل امن اور آرام ہو۔لیکن جب تمہیں یہ چیزیں نہیں ملتیں تو تم کہتے ہو میں جنت نہیں ملی۔حالانکہ جس کے طفیل تمہیں جنت ملنی تھی جنگ اُحد میں اُس کے دانت شہید ہوئے ، جنگ احزاب میں اُسے پندرہ دن بھا گنا بھی پڑا، عورتیں بے پرد ہو گئیں اور جب ان کی حفاظت کے لئے سپاہی بھیجے گئے تو محاذ کمزور ہو گیا۔اس کو وہ دن بھی دیکھنا پڑا جب روما کے متعلق یہ خبر مشہور ہوئی کہ وہ عرب پر حملہ آور