خطبات محمود (جلد 31) — Page 2
$1950 2 خطبات محمود میں اعلان کیا گیا۔میں دوسرے دن دو پہر تک انتظار کرتا رہا کہ کوئی مجھے اطلاع دے اور میں نماز جنازہ پڑھاؤں لیکن کسی نے مجھے اطلاع نہ دی۔جب درد صاحب آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جنازہ کسی م نے پڑھا دیا ہے۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میری طرف سے یہ کہہ دیا گیا کہ میں بیمار ہوں اور جنازہ کے لئے باہر نہیں آ سکتا اس لئے جنازہ پڑھا دیا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں بیمار تھا اور باہر نہیں سکتا تھا۔لیکن جب وصیت کا کاغذ میرے پاس دستخط کے لئے آیا تو ان تعلقات کی وجہ سے جو ان کے والد صاحب کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھے میں نے فیصلہ کیا کہ خود جنازہ پڑھاؤں۔مگر یونہی کہہ دیا گیا کہ میں نے جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔حالانکہ مجھے اطلاع ہی نہیں دی گئی۔میں کل دوپہر تک انتظار کرتا رہا۔رات کو تو میں نے خیال کیا کہ مناسب نہیں سمجھا گیا کہ رات کو جنازہ پڑھا جائے۔اور کل دوپہر تک میں نے سمجھا کہ رشتہ داروں کے آنے کی وجہ سے دیر ہو ہی جاتی ہے اس لئے شاید دیر ہو گئی ہو۔لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ جنازہ خود پڑھا دیا گیا ہے اور میری طرف سے یہ کہ دیا گیا کہ میں بیمار ہوں اس لئے جنازہ کے لئے باہر نہیں آسکتا جنازہ پڑھا دیا جائے۔میں نے یہ کیس ناظر صاحب اعلیٰ کے سپر د کر دیا ہے اور تمام ایسے آدمیوں کو جنہوں نے یہ حرکت کی ہے سرزنش کی جائے گی خصوصا وصیت کا محکمہ بہت حد تک اس کا ذمہ وار ہے۔میں جماعت کو بدقسمت سمجھوں گا اگر وہ اپنی تاریخ سے ناواقف ہو جائے۔جو جنازہ آیا تھا وہ عبداللہ صاحب سنوری کے بیٹے کا تھا جو صوفی عبد القدیر صاحب نیاز کے بڑے بھائی اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد ( ناظر امور خارجہ صدر انجمن احمدیہ ) کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی ہستی ایسی نہیں کہ جماعت کے جاہل سے جاہل اور نئے سے نئے آدمی کے متعلق بھی یہ قیاس کیا جا سکے کہ اُسے آپ کا نام معلوم نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ کشف جس میں کپڑے پر سُرخ روشنائی کے چھینٹے پڑے اور روشنائی ظاہری طور پر دکھائی دی مولوی صاحب اس نشان کے حامل اور چشم دید گواہ تھے۔ان کی آنکھوں کے سامنے وہ چھینٹے گرے۔اور پھر خدا تعالیٰ نے انہیں یہ مزید فضیلت بخشی تھی کہ ایک چھینٹا ان کی ٹوپی پر بھی آپڑا۔گویا خدا تعالیٰ کے عظیم الشان نشان میں اور ایسے نشان میں جو دنیا میں بہت کم دکھائے جاتے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ شامل تھے۔لیکن ان کے لڑکے کا جنازہ مہمان خانہ میں پڑا رہا مگر کسی نیک بخت کو یہ نہیں سوجھا کہ وہ مساجد