خطبات محمود (جلد 31) — Page 78
$1950 خطبات محمود 78 5 کوئی شخص اپنے پیچھے چھوڑے۔اور ناخلف ایسی اولاد کو کہتے ہیں جس کو کوئی شخص اپنے پیچھے نہ چھوڑے۔یعنی ناخلف وہ بیٹا ہے جو باوجود بیٹا ہونے کے بیٹا نہیں۔پس مومن کو ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرے تا وہ خدا تعالیٰ کے اخلاق اور اُس کے اوصاف کا وارث بنے۔درحقیقت مسلمانوں کے اندر یہ عیب پایا جاتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو ڈراؤنی شکل میں پیش کرتے ہیں۔وہ اُس کو پیار کرنے والے اور نیک سلوک کرنے والے کی شکل میں پیش نہیں کرتے۔اس لئے انسان کے اندر خدا تعالیٰ کے تصور سے محبت کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔مسلمان کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تمہیں نیست و نابود کر دے گا، تباہ و برباد کر دے گا اس لئے انسان خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے سے گھبراتا ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کو اُس کی حقیقی صورت میں پیش کیا جائے تو انسان اس کے تصور سے گھبراتا نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ - A یعنی میرا غضب، قہر، مارنا اور تباہ کرنا یہ صفات تابع ہیں اصل صفت رحمت ہے۔پھر کہتا ہے: اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله و یعنی کمال انسانیت یہ ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے سامنے جھکو یہاں تک کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرتے کرتے خدا تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ۔گویا خدا تعالیٰ اپنے آپ کو ایک عاشق کا درجہ بھی نہیں دیتا۔وہ بندے کو معشوق اور اپنے آپ کو عاشق قرار دیتا ہے۔اتنے تعلق کے ہوتے ہوئے سارا زور خدا تعالیٰ کے غضب، اُس کے عذاب اور اُس کے قہر پر دینا کتنے ظلم کی بات ہے۔جہاں تک قہر کا تعلق ہے ماں باپ بھی اپنی اولا د کو مارتے ہیں بلکہ بعض دفعہ ماں باپ زیادہ مارتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ ہم اپنے بچوں کو مار رہے ہوتے ہیں تو پاس والے لوگ کہتے ہیں چلو جانے دو۔وہ اُن کی نظر میں اچھا بنا چاہتے ہیں۔مگر کیا اس سے ماں باپ کی محبت میں کمی آجاتی ہے؟ دوسرا شخص سمجھے یا نہ سمجھے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ اُسے کس طرح سمجھتا ہے۔ماں تھپڑ مارتی ہے اور پھر دوڑ کر اُس کی گردن میں باہیں ڈال دیتا ہے۔یہ عجیب بات ہے اور تم میں سے ہر ایک کے روزانہ تجربہ میں یہ بات آئی ہوگی اور ہم نے تو پانچ پانچ منٹ تک ایسا ہوتے دیکھا ہے۔ماں مارتی جاتی ہے اور بچہ اُس سے چمٹتا جاتا ہے ہے۔وہ خوب جانتا ہے کہ اُس کے پیچھے محبت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ مار کو بُرا سمجھتا ہے لیکن