خطبات محمود (جلد 31) — Page 79
$1950 79 خطبات محمود اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ مار محبت کی وجہ سے ہے۔اس لئے جتنا میری ماں مارے گی میں اُس کے ساتھ چمٹوں گا۔خدا تعالیٰ کے تعلق کی اصل بنیاد محبت پر ہے لیکن وہ محبت ماں باپ والی محبت ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ اُس کی صفات اور اُس کے اخلاق میں اس کا وارث بن جائے جس طرح ماں باپ چاہتے ہیں کہ اُن کا نام باقی رہ جائے۔نام باقی رہنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اللہ دتا یا محمد دین کا نام رہے بلکہ اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ ہماری اولاد ہماری عزت اور شہرت کو قائم رکھنے والی بن جائے۔ہر خاندان اپنے کسی نہ کسی مخصوص کیریکٹر کا حامل ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اُس کی اولا دبھی اُس کیریکٹر کو قائم رکھے۔چوہڑوں اور چماروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔مجھے یاد ہے قادیان میں ایک مخلص اور نیک دوست تھے وہ درزی کا کام کرتے تھے۔انہیں کوئی رشتہ نہیں ملتا تھا۔میں نے ایک غریب روئی ڈھنے والے کے بیٹے کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اُسے اپنی بیٹی کا رشتہ دے دے اور وہ اس بات پر راضی ہو گیا۔اتنے میں میں نے کیا دیکھا کہ میں دفتر میں بیٹھا ہوا ہوں کہ لڑکی کی دادی پاگلوں کی طرح بال کھولے ہوئے اور سر پر چار پائی اٹھائے بازار میں شور مچاتی ہوئی جارہی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے بچے ہیں۔میں نے سنا کہ وہ کہہ رہی ہے کہ کرناسی تے پھر کزا تاں نال ای کرناسی یعنی اگر رشتہ کرنا تھا تو پھر کیا ایک ادنی شخص کے ساتھ ہی کرنا تھا۔ویسے تو ہم کسی پیشے میں عیب نہیں سمجھتے لیکن اگر سمجھا جائے تو مجھے تو ایک درزی، دھنیے سے بہتر نظر آتا ہے۔مگر واقع یہ ہے کہ دُھنیے ، درزی کو اور درزی ، ڈھنے کو ذلیل اور ادنی سمجھتے ہیں۔غرض تم کہیں چلے جاؤ ہر قوم اور ہر خاندان نے اپنا کوئی مخصوص کیریکٹر قرار دیا ہے اور اُن کا دل چاہتا ہے کہ اُن کا یہ کیریکٹر قائم رہے اور وہ اپنی منفردانہ حیثیت کو قائم رکھیں۔اور یہ صاف بات ہے کہ جب ایک ادنیٰ سے ادنی انسان بھی یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنا کیریکٹر قائم رکھے تو کیا خدا تعالیٰ کی ذات ہی نَعُوذُ بِالله ایسی ہے کہ وہ یہ نہ چاہے کہ اُس کا کیریکٹر قائم رہے؟ یقیناً خدا تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اس کا مخصوص کیریکٹر قائم رہے اور وہ اُس کی روحانی اولاد کے ذریعہ ہی قائم رہتا ہے۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنا چاہتے ہو اور اگر تم خواہش رکھتے ہو کہ تم خدا تعالیٰ کی اولاد قرار دئیے جاؤ تو تمہیں