خطبات محمود (جلد 31) — Page 74
1950ء 74 (14) خطبات محمود اگر تم خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنا چاہتے ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے د (فرمودہ 30 جون 1950 ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: کی د بعض چھوٹے چھوٹے لفظ ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر ایک بہت بڑا مضمون پوشیدہ ہوتا ہے انجیل میں خدا تعالیٰ کو باپ قرار دیا گیا ہے اور مسیح علیہ السلام اپنے حواریوں کو کہتے ہیں کہ تم کسی کو اپنا باپ نہ سمجھو مگر اُسی کو جو آسمان پر ہے۔ 1 اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مشابہت ماں سے دی ہے جیسے فرمایا جب کوئی گنہگار بندہ توبہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اُس سے کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی ایک ماں کو اس کے کھوئے ہوئے بچے کو پالینے سے ہوتی ہے۔ 2 باپ اور ماں کا فرق تو محض شدت احساس اور نسبتاً کم احساس پر دلالت کرنے کے لئے ہے ورنہ جہاں تک بے لوث اور بے دلیل محبت کا سوال ہے باپ اور ماں کی محبت ایک ہی رنگ کی ہوا کرتی ہے۔ نہ باپ کی محبت کسی لالچ اور حرص پر مبنی ہوتی ہے اور نہ ماں کی محبت کسی لالچ اور حرص پر مبنی ہوتی ہے۔ نہ باپ اپنے بچے سے دلیلوں اور بحثوں کے بعد محبت کرتا ہے اور نہ ماں دلیلوں اور بحثوں کے بعد اپنے بچے سے محبت کرتی ہے۔ ہاں باپ اور ماں کی محبت میں بعض قسم کے فرق بھی ہیں مگر وہ ان دونوں قسموں میں سے نہیں ہیں ۔ وہ الگ قسم کے ہیں۔ بہر حال جو قریب کے دو سلسلے ہیں یعنی ایک وہ جس میں ہم خود شامل ہیں اور ایک وہ جو ہمارے سلسلہ سے قریب زمانہ میں دنیا میں آیا ان دونوں میں خدا تعالیٰ اور بندے کا تعلق