خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 49

1950ء 49 خطبات محمود مردوں والے کام عورتوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ آخر میں قیدی تو نہیں ہوں کہ کمرہ بند کر کے بیٹھا رہوں ۔ کسی نہ کسی وقت دروازہ کھولوں گا لیکن ادھر دروازہ کھلا اور کسی عورت نے رقعہ دے دیا اور پاس آ کر بیٹھ گئی کہ اس کا جواب دو تو جاؤں ۔ اگر کوئی مرد ہو تو میں کہوں کہ یہ رقعہ دینے یا اس کا جواب لینے کا طریق نہیں۔ اول تو مرد میں اتنی سمجھ ہوتی ہے کہ وہ ایسا کام نہیں کرتا یا اُسے پتہ ہوتا ہے کہ مجھے باہر نکال دیا جائے گا۔ لیکن عورت کو پتہ ہے کہ مجھے کوئی باہر نہیں نکالے گا۔ میں نے جماعت کو بار ہا منع کیا ہے کہ عورتوں کو رقعے دے کر اندر بھیجنا نا شائستہ حرکت ہے۔ کل سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مردوں کے جو رقعے عورتوں کے ہاتھ اندر جائیں گے میں وہ رقعے دفتر میں نہیں بھیجوں گا بلکہ انہیں پھاڑ کر پھینک دوں گا اور رقعہ لانے والی عورت کو کہوں گا کہ میں اس کا جواب تمہیں نہیں دوں گا۔ جب تم کو اُس رقعہ کا جواب دو گھنٹہ کی بجائے دو دن تک یا دو ماہ تک یا دو سال تک بھی نہیں ملے گا تو تم سمجھ جاؤ گے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ عورتوں کو اگر کوئی تکلیف ہے تو میں نے حکم دیا ہوا ہے کہ وہ میری بیویوں سے کہیں اور میری بیویاں مجھے کہیں۔ اگر میں کوئی بات اُس عورت کے منہ سے سُننا چاہوں گا تو اُسے ہلالوں گا کیونکہ بعض ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ جب تک وہ خود نہ سنی جائیں انسان پر ان کی حقیقت نہیں کھلتی ۔ اگر کوئی ایسی بات ہو تو میں خود بھی سن سکتا ہوں لیکن یہ چیز محدود ہونی چاہیے۔ عورتیں اپنے معاملات میں آزاد ہیں لیکن انہیں میری بیویوں کے پاس جانا چاہیے۔ اگر کوئی بات اہم معلوم ہوئی تو میں خود اپنے پاس بلا کر پوچھ لوں گا۔ لیکن عورتوں کے ہاتھ رقعے بھیجنا میرے وقت پر ناجائز تصرف ہے۔ ہماری جماعت جو دنیا کی فاتح بننے والی ہے اسے اپنے کاموں میں سمجھ سے کام لینا چاہیے۔ میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ رقعے بھیجنے کے آخر معنے ہی کیا ہیں۔ کسی کو کوئی ضرورت ہو تو وہ مختصر طور پر مجھے زبانی بتادے۔ صحابہؓ اسی طرح کیا کرتے تھے اُن سے رقعہ لکھنا ثابت نہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب باہر تشریف لاتے تو جس صحابی کو کوئی ضرورت ہوتی وہ آگے بڑھ کر مختصر طور پر بات کر دیتا۔ لیکن یہاں اول تو رقعے لکھے جاتے ہیں اور پھر اختصار کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی ۔ کسی کے ہاں اگر اولا د نہیں ہوتی اور اُس نے دعا کے لئے کہنا ہوتا ہے تو وہ بیان یوں کرتا ہے کہ میں نے فلاں جگہ پر شادی کی تھی ، نکاح آپ نے ہی پڑھا تھا، فلاں جگہ مہر پر جھگڑا ہوا تھا ، فلاں جگہ اور فلاں حکیم سے علاج کروایا ہے لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ اور اس طرح ایک لمبی کہانی بیان کرنے کے بعد آخر میں وہ یہ