خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 47

1950ء 47 9 خطبات محمود اپنے اندر عقل ، عزم اور استقلال پیدا کرو (فرمودہ 14 اپریل 1950 ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” میرے گلے میں تکلیف پہلے بھی تھی لیکن شوری میں تین دن تک بولنے کی وجہ سے تکلیف اور بھی بڑھ گئی ہے۔ گو خدا تعالیٰ کا اتنا فضل ہوا ہے کہ آواز بیٹھی نہیں لیکن بھرا گئی ہے۔ کان میں بھی و درد اتنا ہے کہ آواز ہے اور بخار بھی ہو گیا تھا اس لئے نہ تو میں بلند بول سکتا ہوں اور نہ لمبا بول سکتا ہوں۔ درد آج میں ایک ایسے امر کے متعلق خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں جو مجھے مسجد کے اندر آ کر پیش آیا۔ جب کوئی شخص کسی شریعت اور قانون کو مانتا ہے تو اُس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ اُس کے پُر حکمت اور بالا تو ہونے کا قائل ہے۔ انسان اپنی آزادی کو یونہی برباد نہیں کرتا ۔ وہ اپنی آزادی کو برباد کرنے کے لئے اُسی وقت تیار ہوتا ہے جب وہ چیز جس کے لئے وہ اپنی آزادی کو برباد کرتا ہے بہتر ، اہم اور بالا ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ اُس کے لئے جان ، مال ، آبرو اور وقت سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔ لوگ اپنی آزادی کی خاطر وطن چھوڑ دیتے ہیں ، لوگ آزادی کو قائم رکھنے کے لئے اپنا مال قربان کر دیتے ہیں، عزتیں قربان کر دیتے ہیں ، وہ بڑے بڑے عہدے چھوڑ دیتے ہیں ، بڑے بڑے رتبے ترک کر دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آزادی ، انسانیت کا دوسرا نام ہے ۔ وہ رتبوں ، عُہدوں ، مال اور جان غرض ہر چیز سے زیادہ ہے۔ پیاری ہے۔ پس جب کوئی شخص کسی مذہب کو قبول کرتا ہے تو دوسرے لفظوں میں وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ ہر چیز جس کے ذریعہ میں کسی نتیجہ تک پہنچ سکتا ہوں اُس کے سامنے بیچ ہے اور اس کے لئے اپنا ارادہ مجھے کلی طور پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جب مذہب کے یہ معنے ہیں تو ہمیں یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ مذہب